اسلام آباد: جغرافیائی سیاسی کشیدگی، توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور مہنگائی عالمی معاشی نمو کے لیے بڑے خطرات بن گئے ہیں۔
جبکہ کاروباری اخراجات میں مسلسل اضافے اور شرح سود بڑھنے کے خدشات نے عالمی کاروباری ماحول پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس (اے سی سی اے) اور انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس (آئی ایم اے) کے سروے کے مطابق، ایشیا پیسیفک سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں مالیاتی ماہرین کو معاشی غیر یقینی صورت حال، سپلائی چین میں رکاوٹوں اور ہنرمند افرادی قوت کی کمی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔
اے سی سی اے کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ایشیا پیسیفک کے 24.1 فیصد مالیاتی ماہرین نے جغرافیائی سیاسی عدم استحکام کو کاروبار اور معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا۔
اِسی طرح خطے کے 62 فیصد شرکاء نے کاروباری اخراجات میں اضافے کی نشاندہی کی، اس صورت حال سے کاروباری اداروں کے منافع، سرمایہ کاری کے فیصلوں اور صارفین کی قوت خرید پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ ایشیا پیسیفک کے 41 فیصد مالیاتی ماہرین کو آئندہ تین ماہ کے دوران شرح سود میں اضافے کی توقع ہے، جبکہ عالمی سطح پر تقریباً نصف مالیاتی ماہرین نے بھی اسی نوعیت کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔
ماہرین نے بتایا کہ اگر مہنگائی اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ برقرار رہا تو مرکزی بینک افراطِ زر کو قابو میں رکھنے کے لیے شرح سود میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں، جس سے کاروباری قرضوں کی لاگت بڑھے گی اور سرمایہ کاری کی رفتار متاثر ہونے کا امکان ہے۔
اے سی سی اے اور آئی ایم اے کے سروے میں کہا گیا کہ عالمی سطح پر تقریباً 70 فیصد اکاؤنٹنٹس نے کاروباری اخراجات میں اضافے کی اطلاع دی، پیداواری لاگت، توانائی، خام مال اور دیگر کاروباری ضروریات مہنگی ہونے سے اداروں کو مالی دباؤ کا سامنا ہے۔
اگر کاروباری ادارے اضافی اخراجات صارفین کو منتقل کرتے ہیں تو اشیا اور خدمات کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے صارفین کی طلب متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب ایشیا پیسیفک میں کاروباری اعتماد میں کمی کے باوجود نئے آرڈرز میں مسلسل دوسری سہ ماہی بہتری ریکارڈ کی گئی، جو خطے کی کاروباری سرگرمیوں کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔
رپورٹ میں لکھا گیا کہ سپلائی چین میں رکاوٹیں، ہنرمند افرادی قوت کی کمی اور غیر یقینی عالمی معاشی حالات کاروباری اداروں کی ترقی کی راہ میں اہم رکاوٹیں ہیں۔
رپورٹ میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں عالمی سرمایہ کاری کو ایشیا پیسیفک کی معاشی نمو میں اہم کردار ادا کرنے والا عنصر قرار دیا گیا ہے۔
مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری سے پیداواری صلاحیت، کاروباری کارکردگی اور جدت کے مواقع بڑھ سکتے ہیں، تاہم ان فوائد کے حصول کے لیے مہارتوں کی ترقی اور ٹیکنالوجی تک رسائی بھی ضروری ہوگی۔
اے سی سی اے کی رپورٹ میں توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافے اور ال نینو کے موسمی اثرات کو بھی عالمی معیشت کے لیے ممکنہ خطرات میں شمار کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ، نوٹیفکیشن جاری
مزید برآں رپورٹ میں مزید یہ بھی کہا گیا کہ توانائی کی مہنگی قیمتیں صنعتوں اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھا سکتی ہیں، جبکہ موسمی تبدیلیوں کے باعث زرعی پیداوار اور خوراک کی رسد متاثر ہونے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔













پیر 26 اکتوبر 2026 

