وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور پاک چین دوستی کو مضبوط بنانے، دونوں ممالک کے عوام کے درمیان باہمی سمجھ بوجھ بڑھانے اور اس دیرینہ تعلق کو نئی نسلوں تک منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ان کے مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) نے دونوں ممالک کی معیشتوں کو جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جبکہ انفارمیشن کوریڈور باہمی رابطوں، معلومات کے تبادلے اور مشترکہ مستقبل کے وژن کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بنے گا۔
چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ اس منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب ان کے لیے باعث اعزاز ہے۔ میڈیا، معلومات کے تبادلے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے پاک چین تعلقات کو فروغ دینا ان کی دلی خواہش رہی ہے۔ پاکستان اور چین کے تعلقات صرف سفارتی روابط تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کی مشترکہ تاریخ، ثقافت، روایات اور باہمی اعتماد پر استوار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کی سرحدوں کے ساتھ دریا، پہاڑ، ثقافتیں اور روایات بھی مشترک ہیں۔ دونوں ممالک کے پہاڑ اور دریا ان کی دوستی کی علامت اور مشترکہ داستانوں کے امین ہیں۔ پاک چین دوستی کی کہانیاں درہ خنجراب سے گوادر اور کراچی سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں تک پھیلی ہوئی ہیں، جنہیں دونوں ممالک کے آباؤ اجداد نے نسل در نسل منتقل کیا۔ اب اس ورثے کو آگے بڑھانا اور نئی نسلوں تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔
سی پیک نے دوستی کو عملی ترقی میں تبدیل کیا
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاک چین آہنی دوستی ایک منفرد اصطلاح ہے جو دونوں ممالک کے تعلقات کی مضبوطی اور پائیداری کی عکاسی کرتی ہے۔ صدر شی جن پنگ کے 2015 میں دورہ پاکستان نے اس دوستی کو نئی بلندیوں تک پہنچایا اور سی پیک جیسے اہم منصوبے کو آگے بڑھانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
عطاء اللہ تارڑ کے مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری، بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا ایک اہم منصوبہ ہے، جس نے کئی دہائیوں پر محیط خیرسگالی کو عملی ترقی، توانائی کے منصوبوں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں تبدیل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پیک کے تحت توانائی کے منصوبوں نے ایسے گھروں کو روشن کیا جہاں پہلے بجلی کی سہولت میسر نہیں تھی، جبکہ موٹرویز اور دیگر مواصلاتی منصوبوں نے ملک کے مختلف حصوں کو باہم جوڑنے میں مدد دی۔
انہوں نے کہا کہ گوادر کے ذریعے پاکستان کو عالمی تجارت اور رابطوں کے لیے ایک اہم راستہ میسر آیا ہے۔ درہ خنجراب کے راستے نصب کی گئی فائبر آپٹک کیبل نے بھی پاکستان اور چین کو براہ راست ڈیجیٹل رابطے سے منسلک کیا ہے۔ ان کے بقول سی پیک کے پہلے مرحلے نے دونوں ممالک کی زمینوں اور علاقوں کو جوڑا، جبکہ اگلا مرحلہ ان کے عوام کے ذہنوں، خیالات اور باہمی فہم و ادراک کو قریب لانے پر توجہ دے گا۔
انفارمیشن کوریڈور کے چار بنیادی ستون
عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور چار بنیادی ستونوں پر قائم ہے اور ان تمام شعبوں میں کام شروع ہو چکا ہے۔ ان میں میڈیا تعاون، تجارت، تھنک ٹینکس اور تحقیق، جبکہ ثقافت، سیاحت اور نوجوانوں کے تبادلے شامل ہیں۔
پہلا ستون: میڈیا اور خبروں کا تبادلہ
وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق انفارمیشن کوریڈور کے پہلے ستون کے تحت پاکستان اور چین کے 18 میڈیا اداروں پر مشتمل نیوز ایکسچینج ورکنگ گروپ قائم ہے۔ اس میں سرکاری نشریاتی اداروں کے ساتھ نجی ٹی وی چینلز اور چین کے خبر رساں ادارے شنہوا، چائنا میڈیا گروپ اور پیپلز ڈیلی سمیت دیگر ادارے شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے میڈیا ادارے باہمی تعاون سے تصدیق شدہ خبریں ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔ اس نظام کا مقصد معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانا اور گمراہ کن بیانیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ٹھوس حقائق کی بنیاد پر ان کا جواب دینا ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں معلومات کی درستگی اور قابل اعتماد ذرائع کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ ان کے مطابق چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور میں حقائق کی جانچ کے نظام کو بھی شامل کیا گیا ہے، تاکہ غلط معلومات کے مقابلے میں مستند حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
دوسرا ستون: تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری روابط
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ انفارمیشن کوریڈور کے تجارتی ستون کے تحت پہلا علاقائی دفتر کراچی میں قائم ہو چکا ہے، جبکہ تجارت، سرمایہ کاری اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری سے متعلق معلومات جمع کرنے کے لیے ایک تجارتی پورٹل تیار کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق اس پورٹل کے ذریعے پاکستان میں کام کرنے والے چینی کاروباری افراد اور چین میں موجود پاکستانی تاجروں کی کامیابیوں اور تجربات کو بھی اجاگر کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے پوڈ کاسٹ سیریز کے ذریعے دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں کی کہانیاں بیان کی جا رہی ہیں۔
مزیدپڑھیں:سوڈان کے شہر نیالا میں ڈرون حملہ، 21 افراد ہلاک، 40 سے زائد زخمی
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے کاروباری روابط کو فروغ دینے، سرمایہ کاری کے مواقع اجاگر کرنے اور دونوں ممالک کے تاجروں کو ایک دوسرے کی منڈیوں اور کاروباری ماحول سے آگاہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تیسرا ستون: تھنک ٹینکس، تحقیق اور علمی مکالمہ
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ انفارمیشن کوریڈور کا تیسرا ستون تھنک ٹینکس، تحقیق اور اشاعتوں پر مشتمل ہے۔ اس کے ذریعے پاکستان اور چین کے درمیان دوطرفہ مکالمے کو علمی بنیادیں فراہم کی جائیں گی اور مشترکہ معاملات پر تحقیق و تبادلے کو فروغ دیا جائے گا۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے تحقیقی اداروں اور ماہرین کے درمیان تعاون سے باہمی تعلقات، اقتصادی ترقی اور مشترکہ مستقبل کے حوالے سے شواہد پر مبنی گفتگو کو آگے بڑھایا جا سکے گا۔
چوتھا ستون: ثقافت، سیاحت اور نوجوانوں کا تبادلہ
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور کا چوتھا ستون ثقافت، سیاحت اور نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اس سلسلے میں سنکیانگ اور گلگت بلتستان کے درمیان سیاحتی راہداری پر کام جاری ہے، جس سے چینی سیاحوں کے لیے پاکستان کے شمالی علاقوں تک رسائی کے امکانات بڑھیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ پاک چین دوستی کے یادگاری سال کے موقع پر دوستی ریلی بھی منعقد کی جائے گی۔ اس کے علاوہ یوتھ ایمبیسیڈرز کے پہلے گروپ کے لیے پاکستان بھر کی 13 جامعات سے نوجوانوں کو نامزد کیا گیا ہے۔ اس پروگرام میں گلگت سے کوئٹہ، پشاور سے کراچی اور مظفر آباد سے لاہور تک مختلف علاقوں کی جامعات شامل ہیں۔
عطاء اللہ تارڑ کے مطابق نوجوانوں کے درمیان رابطوں، ثقافتی تبادلوں اور مشترکہ سرگرمیوں سے دونوں ممالک کی نئی نسلوں کو ایک دوسرے کے معاشروں، روایات اور مواقع کو سمجھنے کا موقع ملے گا۔
سی پیک 2.0 اور ڈیجیٹل معیشت کا نیا مرحلہ
وفاقی وزیر نے کہا کہ سی پیک کے اگلے مرحلے، یعنی سی پیک 2.0، کے تحت ترقی، روزگار، جدت، ماحول دوست ترقی اور کشادگی پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور چین کے صدر شی جن پنگ نے دونوں ممالک کے مشترکہ مستقبل پر مبنی تعاون کو مزید آگے بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین نے فائیو جی، مصنوعی ذہانت، ای کامرس اور سمارٹ شہروں سمیت ڈیجیٹل معیشت کے مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ پاکستان چین کے ساتھ مل کر ان شعبوں میں تعاون کے مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے، تاکہ ملکی صلاحیتوں کو عالمی ڈیجیٹل معیشت سے منسلک کیا جا سکے۔
عطاء اللہ تارڑ نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پاکستانی آئی ٹی طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی کے رجحانات سے آگاہ کرنے کے لیے وظائف فراہم کرنے کی تجویز کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کے دورے کے دوران علی بابا گروپ کے ساتھ مصنوعی ذہانت سے متعلق مفاہمت کی یادداشت کے مسودے کی تیاری اور اس پر دستخط کے حوالے سے بھی پیش رفت ہوئی، جبکہ اس مفاہمت پر عمل درآمد جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے لیے ڈیجیٹل انقلاب کا بنیادی تعلق عوام اور بالخصوص نوجوانوں سے ہے۔ پاکستان کی 68 فیصد سے زیادہ آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، اس لیے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مہارتوں اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے مواقع فراہم کرنا اہم ہے۔
وزیر اطلاعات کے بقول نوجوانوں کے ہاتھوں میں لیپ ٹاپ ایک پاسپورٹ اور اسمارٹ فون ایک منڈی کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے وہ عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو متعارف کرا سکتے ہیں۔
ڈیجیٹل دور میں اپنا بیانیہ خود پیش کرنا ضروری ہے
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں رابطہ طاقت اور بیانیہ خودمختاری کی حیثیت رکھتا ہے۔ جو قوم ڈیجیٹل دنیا میں اپنی کہانی خود بیان نہیں کر سکتی، اس کے بارے میں دوسرے لوگ اس کی طرف سے بات کرتے ہیں۔ اسی لیے پاکستان اور چین کے لیے ضروری ہے کہ وہ مستند معلومات، میڈیا تعاون اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنے تعلقات اور مشترکہ منصوبوں کو دنیا کے سامنے پیش کریں۔













منگل 27 اکتوبر 2026 

