وزیر اطلاعات کا’ ’نیشنل سائبر سکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل‘ ‘کے قیام کا اعلان

Calender Icon جمعرات 29 اکتوبر 2026

وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے ’ایک سے 2 ہفتوں کے اندر‘ ایک باقاعدہ اور بااختیار ’نیشنل سائبر سکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل‘ قائم کرنے کا اعلان کر دیا۔

اسلام آباد میں سائبر سکیورٹی آگاہی ویک کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اطلاعات نے تجویز دی کہ اس کونسل میں وفاقی وزارتیں، تمام صوبائی حکومتیں، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی اے)، سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (سمپرا) اور اقوامِ متحدہ کا ادارہ برائے ترقی (یو این ڈی پی) شامل ہو سکتے ہیں، جبکہ پی ٹی اے اس کونسل کی قیادت کرے۔

کونسل کے قیام کے مقاصد پر بات کرتے ہوئے عطا تارڑ نے زور دے کر کہا کہ محض رسمی مہمات یا ایک ہفتے کی آگاہی سے ڈیجیٹل چیلنجز پر قابو نہیں پایا جا سکتا، اس لیے یہ کونسل قائم کی جائے ”تاکہ سال کے 365 دن عوامی سطح پر آگاہی اور اصلاحات کو ممکن بنایا جا سکے۔“

نئی کونسل کی ضرورت پر مزید بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کا کہنا تھا کہ ہمارا معاشرہ سوشل میڈیا کی آمد اور تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی کے لیے تیار نہ تھا اور اسی لیے ریگولیٹری فریم ورک بھی قائم نہیں کیے جا سکے اور یوں قوانین پر عملدرآمد کروانا ایک شدید چیلنج بن گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ارتقاء ہوا جس کے بعد این سی سی اے اور سمپرا جیسے ادارے بنے جو خود ارتقاء کے عمل سے گزر رہے ہیں، ”لیکن ٹیکنالوجی اتنی تیزی سے بدل رہی ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ چیلنجز اور خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔“

اس موقع پر انہوں ںے ’حل‘ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ”حل سوشل میڈیا کے دائرے ہی میں موجود ہے“ اور ’نیشنل سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل‘ کے قیام کی تجویز دی۔

انہوں نے کونسل بنانے پر اتفاق کو تقریب کی پریس ریلیز یا اعلامیے کا حصہ بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان اور وزارتِ اطلاعات و نشریات کی طرف سے اس کونسل کی تشکیل میں مکمل سہولت کاری فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

اس کے علاوہ وزیر اطلاعات نے اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر ڈیجیٹل لٹریسی کو لازمی نصاب کا حصہ بنانے اور تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں ’ڈیجیٹل لٹریسی سیل‘ قائم کرنے کی بھی تجویز دی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈائیریکٹ میسجنگ اور مائیکرو انفلونسرز کے دور میں ہر شہری تک درست پیغام پہنچانا ضروری ہے تاکہ وہ فنانشل اسکیمز، ڈیپ فیکس اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے پیدا ہونے والے خطرات کا مقابلہ کر سکیں۔

مزید برآں، وزیر اطلاعات ںے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کے لیے ’اے آئی لیبلنگ‘ کو قانونی و ریگولیٹری فریم ورک کے ذریعے تمام پلیٹ فارمز کے لیے لازمی قرار دیا جائے گا تاکہ صارفین کو معلوم ہو سکے کہ کون سا مواد اے آئی کے ذریعے بنایا گیا ہے۔

آخر میں عطا تارڑ نے ان کے دور میں وزارتِ اطلاعات میں شروع کیے گئے نے منصوبوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ”جب میں نے عہدہ سنبھالا تو ہمارا ڈیجیٹل فٹ پرنٹ صفر تھا۔“

انہوں ںے کہا کہ ہم نے روایتی طریقے ختم کر کے پاکستان کا پہلا ’ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ‘ قائم کر دیا ہے اور کارپوریٹ کلچر کے تحت جنریشن زی ماہرین اور فیکٹ چیک میکانزم کی مدد سے جدید ترین پالیسیاں تشکیل دی جا رہی ہیں۔

اس سے قبل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے شدید خطرات کی زد میں ہے اور ملک پر ہر وقت سائبر حملے کیے جا رہے ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سائبر حملوں اور ڈیجیٹل خطرات کے لحاظ سے ایک ’ٹارگیٹڈ ملک‘ بن چکا ہے، جہاں 24 گھنٹے سائبر اٹیکس کے ساتھ ساتھ ہزاروں کی تعداد میں جعلی ویڈیوز اور جھوٹی اطلاعات گردش کرتی ہیں۔

انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کے ہر شہری کو جعل سازی پر مبنی فیک کالز اور ون ٹائم پاس ورڈ کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں، جبکہ مختلف اداروں کو مسلسل جعلی تھریٹس بھی موصول ہو رہی ہیں۔

مزید پڑھیں:امریکا: چیٹ جی پی ٹی کے طبی مشورے پر عمل کرنیوالی سافٹ ویئر انجینئر چل بسی

میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان کا کہنا تھا کہ اس وقت خود ٹیلی کام سیکٹر بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں ہے، جس کے لیے آگاہی مہمات اور جامع و متحرک قومی پالیسی کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے عوامی سطح پر اپیل کرتے ہوئے کہا کہ شہری کسی بھی قسم کے جعلی اور تصدیق کے بغیر موصول ہونے والے پیغامات کو آگے نہ پھیلائیں۔