دی نیویارک ٹائمز رپورٹس کے مطابق 31 سالہ سافٹ ویئر انجینئر باؤئن وان نامی خاتون کے والدین نے اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ چیٹ بوٹ نے بغیر لائسنس طبی مشورے دیے۔
امریکی اخبارنے رپورٹ کیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نے امریکی شہر سیئٹل سے تعلق رکھنے والی سافٹ ویئر انجینئر کو مرگی کی دوا کی خوراک بتدریج کم کرنے اور اس منصوبے کو اپنے ڈاکٹروں سے چھپانے کے بارے میں رہنمائی فراہم کی تھی۔
خاتون کے والد چُن وان بتایا کہ بیٹی کی موت کے بعد اس کی چیٹ جی پی ٹی ایپ کھولی تو ایسے منصوبے ملے جن کے تحت چند ہفتوں کے اندر اس کی لیموٹریجین (Lamotrigine) دوا کی خوراک 400 ملی گرام سے کم کرکے صفر تک لانے کی ہدایات دی گئی تھیں۔
خاتون کے والدین نے اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ چیٹ بوٹ نے طبی لائسنس کے بغیر علاج سے متعلق مشورے دیے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق باؤئن وان 1 دہائی سے زائد عرصے سے مرگی کے مرض میں مبتلا تھیں، وہ 14 فروری کو اپنے اپارٹمنٹ میں مردہ پائی گئیں۔
مزید پڑھیں:ہیوی بائیک کے شوقین افراد کیلئے بڑی خوشخبری، قیمتوں میں لاکھوں روپے کمی متوقع
سرکاری ریکارڈ کے مطابق ان کی موت کی وجہ مرگی کے مرض سے اچانک اور غیر متوقع موت قرار دی گئی۔













جمعرات 29 اکتوبر 2026 

