اسرائیلی انتخابات، عرب جماعتیں کنگ میکر، نیتن یاہو اور اپوزیشن دونوں اکثریت سے محروم

Calender Icon جمعرات 29 اکتوبر 2026

اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات میں عرب اقلیت کی نمائندہ جماعتیں فیصلہ کن حیثیت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہیں، جہاں وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا دائیں بازو کا اتحاد اور ان کے حریف گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن بلاک، دونوں حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

اسرائیلی میڈیا چینل 12 کے مطابق تمام معمول کے ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد نیتن یاہو کے اتحاد کو 53 نشستیں، اپوزیشن جماعتوں کو 48 جبکہ عرب جماعتوں کو 19 نشستیں ملنے کی توقع ہے۔ اسرائیل کی 120 رکنی پارلیمنٹ میں حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 نشستیں درکار ہیں۔

ٹی آر ٹی ورلڈ کا کہنا ہے کہ انتخابی نتائج کے مطابق عرب جماعتوں کی نمائندگی تقریباً دوگنی ہونے کا امکان ہے، جس سے نئی حکومت کی تشکیل میں ان کا کردار انتہائی اہم ہوگیا ہے۔ تاہم، اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ نے اب تک عرب جماعتوں کے ساتھ باقاعدہ حکومتی اتحاد بنانے کے حوالے سے واضح آمادگی ظاہر نہیں کی۔

اسرائیل کی تقریباً 21 فیصد آبادی فلسطینی عرب شہریوں پر مشتمل ہے۔ انتخابی مہم کے دوران ان میں سے متعدد حلقوں نے نیتن یاہو حکومت کی پالیسیوں، عرب اقلیت کے ساتھ امتیازی سلوک اور شہری حقوق سے متعلق خدشات پر شدید تنقید کی۔

عرب جماعتوں کی حمایت میں اضافے کو ان پالیسیوں کے خلاف عوامی ردعمل اور انتخابی عمل میں بڑھتی ہوئی شرکت سے جوڑا جا رہا ہے۔ ابتدائی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ عرب ووٹروں کی مؤثر شرکت نے نیتن یاہو اور ان کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں کو واضح پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے سے روکنے میں کردار ادا کیا ہو سکتا ہے۔

تاہم، حکومت سازی میں عرب جماعتوں کا اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ آیا وہ اپوزیشن کی حمایت کرتی ہیں، کسی ممکنہ اتحاد میں شامل ہوتی ہیں یا پارلیمنٹ میں الگ رہتے ہوئے حکومت کی حمایت کے لیے شرائط پیش کرتی ہیں۔

اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک اور انتخابی مرحلے سے بچنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نتائج کے بعد سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسا راستہ تلاش کرے جس سے مستحکم حکومت قائم ہوسکے۔ اسرائیلی نظام کے تحت صدر سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد اس رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہیں جس کے پاس پارلیمانی حمایت حاصل کرنے کے امکانات زیادہ ہوں۔

اسرائیلی انتخابی حکام کے مطابق، فوجی اہلکاروں، پولیس افسران، سفارت کاروں اور اپنے رجسٹرڈ پولنگ اسٹیشن سے باہر ووٹ ڈالنے والے دیگر شہریوں کے 5 لاکھ سے زیادہ خصوصی ووٹوں کی گنتی باقی تھی۔

اسرائیلی ویب سائٹ وائی نیٹ کے مطابق ان ووٹوں کی گنتی بدھ کی شام شروع ہونے اور جمعرات کی شام تک مکمل ہونے کی توقع تھی، تاہم عمل جمعے تک بھی جاری رہ سکتا تھا۔

یہ ووٹ نشستوں کی حتمی تقسیم میں تبدیلی لاسکتے ہیں، اگرچہ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق کسی بھی بڑے سیاسی بلاک کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔

حکومت سازی میں تعطل اسرائیل کی سیاسی اور معاشی صورت حال پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ انتخابی نتائج کے بعد اسرائیلی کرنسی شیکل کمزور ہوئی اور تل ابیب اسٹاک مارکیٹ میں بھی نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔

سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر سیاسی جماعتیں مستحکم اتحاد بنانے میں ناکام رہیں تو پالیسی سازی میں تاخیر اور علاقائی کشیدگی کے باعث غیر یقینی صورت حال مزید بڑھ سکتی ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی انتخابات میں عرب جماعتیں ممکنہ کنگ میکر بن کر سامنے آئی ہیں۔ نیتن یاہو کا اتحاد سب سے آگے ہونے کے باوجود اکثریت سے محروم ہے، جبکہ اپوزیشن کو بھی حکومت بنانے کے لیے اضافی حمایت درکار ہے۔ حتمی نتائج اور سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات ہی طے کریں گے کہ اسرائیل میں نئی حکومت قائم ہوگی یا ملک کو دوبارہ انتخابات کی طرف جانا پڑے گا۔

اسرائیل کے مرکزی الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات میں ووٹرز کا ٹرن آؤٹ 77.7 فیصد رہا، جو دو دہائیوں سے زیادہ عرصے میں سب سے بلند شرح ہے اور 2022 کے انتخابات کے مقابلے میں تقریباً 7 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔ حتمی انتخابی نتائج جمعرات یا جمعے کو متوقع ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو عام انتخابات کے ایگزٹ پولز کے نتائج سامنے آنے کے بعد یروشلم میں اپنی جماعت کے انتخابی مرکز پر اشارہ کرتے ہوئے۔( فوٹو: رائٹرز)

ادھر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے زور دیا ہے کہ ملک کی طویل مدتی سلامتی یقینی بنانے کے لیے دائیں بازو کی حکومت قائم کی جانی چاہیے۔

دوسری جانب نیتن یاہو کے مخالف امیدوار سابق اسرائیلی آرمی چیف آئزن کوٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ووٹرز نے طویل عرصے سے اقتدار میں موجود اسرائیلی رہنما کو مسترد کر دیا ہے۔ نیتن یاہو کو سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لینی چاہیے۔

دونوں رہنماؤں میں سے کسی نے بھی اپنی کامیابی کا اعلان نہیں کیا۔ تاہم دونوں کے بیانات سے انتخابی نتائج کی غیر یقینی صورتحال ختم نہیں ہو سکی۔

گزشتہ روز اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ پولنگ کے روز نقد رقم کے لفافوں اور منصور عباس کے بیلٹ پیپرز کے ساتھ 3 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے، پولیس نے صحرائے نیگیو میں ایک عمارت پر چھاپہ مار کر ہزاروں شیکل کی رقم پر مشتمل لفافے اور بیلٹ پیپرز برآمد کر لیے۔

خیال رہے نیتن یاہو کی دائیں بازو کی اتحادی حکومت کی پالیسیوں نے اسرائیل کے اندر سیاسی تقسیم کو گہرا کیا ہے، جبکہ عالمی سطح پر بھی ملک کی تنہائی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے باوجود نیتن یاہو خود کو اسرائیل کے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے مضبوط رہنما کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

77 سالہ نیتن یاہو گزشتہ 30 برس میں تقریباً 19 سال وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں اور متعدد سیاسی بحرانوں سے نکلنے میں کامیاب رہے ہیں۔

نیتن یاہو کو اسرائیل کی تاریخ کی سب سے بڑی سکیورٹی ناکامی پر تنقید کا سامنا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ حماس، حزب اللہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت کو ہلاک کرکے انہوں نے اسرائیل اور دنیا کو زیادہ محفوظ بنایا ہے۔

2009 کے بعد ان کے مخالفین صرف ایک مرتبہ انہیں اقتدار سے ہٹانے میں کامیاب ہوئے۔ دو سال کے دوران مسلسل چار غیر فیصلہ کن انتخابات کے بعد نیتن یاہو کو وزیراعظم کا عہدہ چھوڑنا پڑا، تاہم 18 ماہ بعد ہی وہ دوبارہ اقتدار میں واپس آ گئے۔

مزید پڑھیں:ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں استحکام برقرار

نیتن یاہو کو حالیہ انتخابات میں بدعنوانی کے دیرینہ مقدمات کا بھی سامنا تھا، جن کی وہ تردید کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان پر انٹیلی جنس کی ناکامیوں کے حوالے سے بھی تنقید کی جاتی رہی ہے، جن کے باعث حماس 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملہ کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔