گوگل کو ایک دن میں 500 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان، مصنوعی ذہانت پر بھاری سرمایہ کاری مہنگی پڑگئی

Calender Icon جمعہ 30 اکتوبر 2026

مصنوعی ذہانت پر بڑھتے ہوئے اخراجات اور گوگل سرچ(Google Search) میں اے آئی خلاصوں کے باعث اشتہاری آمدن متاثر ہونے کے خدشات نے امریکی اسٹاک مارکیٹ میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سرمایہ کاروں کو پریشان کردیا۔

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کی مارکیٹ ویلیو ایک ہی دن میں 500 ارب ڈالر سے زیادہ کم ہوگئی جبکہ ایمیزون اور مائیکروسافٹ کے حصص میں بھی گراوٹ دیکھی گئی۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق الفابیٹ نے جمعرات کو کاروباری نتائج جاری کیے تو سرمایہ کاروں نے کمپنی کی بھاری اے آئی سرمایہ کاری اور اس کے بنیادی کاروبار پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے تشویش ظاہر کی۔ کمپنی کے حصص کی قیمت تقریباً 13 فیصد گر کر گزشتہ چھ ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔

رپورٹ کے مطابق الفابیٹ کی مجموعی آمدن گزشتہ سال کے مقابلے میں 25 فیصد اضافے کے ساتھ 127.6 ارب ڈالر رہی۔ گوگل کلاؤڈ کی آمدن میں بھی 103 فیصد اضافہ ہوا اور یہ تقریباً 31 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ تاہم اسی سہ ماہی میں کمپنی کے منافع میں 25 فیصد کمی ہوئی، جبکہ اس کا فری کیش فلو 9 ارب ڈالر سے زیادہ منفی رہا۔ اس کا مطلب ہے کہ کمپنی کی نقد آمدن کے مقابلے میں اخراجات اور سرمایہ کاری بڑھ گئی ہے۔

سرمایہ کاروں کی تشویش کی ایک بڑی وجہ گوگل سرچ میں اے آئی سے تیار کردہ خلاصوں کا استعمال ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ صارفین کو تلاش کے نتائج کے ساتھ براہِ راست جوابات ملنے سے سرچ کے اشتہارات کی فروخت متاثر ہورہی ہے، جبکہ اشتہارات الفابیٹ کے بنیادی کاروبار کا اہم ترین حصہ ہیں۔

جمعرات کے اختتام پر الفابیٹ کی مجموعی مارکیٹ ویلیو تقریباً 3.97 ٹریلین ڈالر سے کم ہوکر 3.46 ٹریلین ڈالر رہ گئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کمپنی کے لیے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت پر بھاری سرمایہ کاری بھی جاری رکھے اور اپنے روایتی سرچ و اشتہارات کے کاروبار کی مضبوطی بھی برقرار رکھے۔

مزیدپڑھیں:کراچی میں ایل پی جی کی قیمت میں پھر اضافہ

ایمیزون کے حصص کی قیمت بھی کاروباری نتائج کے بعد تقریباً 6 فیصد کم ہوگئی۔ کمپنی کی سہ ماہی فروخت 11 فیصد اضافے کے ساتھ 201 ارب ڈالر رہی، تاہم اس کا فری کیش فلو منفی 42 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔

ایمیزون کے چیف ایگزیکٹو اینڈی جیسی نے کہا کہ کمپنی مستقبل میں بڑے کاروباری مواقع کے پیش نظر بھاری سرمایہ کاری کررہی ہے۔ انہوں نے اپنے تیار کردہ کمپیوٹر چپس اور اے آئی ڈیولپر پلیٹ فارم ’بیڈراک‘ کو ممکنہ طور پر بڑے مالی مواقع قرار دیا، تاہم ان دو کاروباروں کی مکمل تفصیلات واضح نہیں کیں۔

مائیکروسافٹ کے حصص میں بھی کمی ہوئی، تاہم گراوٹ ایک فیصد سے کم رہی۔ کمپنی کی سہ ماہی آمدن 19 فیصد اضافے کے ساتھ 92.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ کلاؤڈ کاروبار کی آمدن 30 فیصد بڑھ کر 63 ارب ڈالر ہوگئی۔

مائیکروسافٹ کے چیف ایگزیکٹو ستیہ ناڈیلا کے مطابق کمپنی کے اے آئی ٹول ’کوپائلٹ‘ کے روزانہ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں 500 فیصد بڑھی ہے اور جولائی کے بعد خودکار طور پر انجام دیے جانے والے کام تقریباً دوگنا ہوگئے ہیں۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار اب صرف اے آئی کے استعمال میں اضافے کو نہیں دیکھ رہے بلکہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اس ٹیکنالوجی سے کمپنیوں کو حقیقی اور پائیدار مالی فائدہ کتنا حاصل ہوگا۔ ٹیکنالوجی کی صنعت کے لیے بنیادی سوال یہی ہے کہ مصنوعی ذہانت پر ہونے والی بھاری سرمایہ کاری آخرکار کس حد تک آمدن اور منافع میں تبدیل ہوپائے گی۔