بیجنگ :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئے فوجی حملوں کی شدید دھمکیوں کے بعد، چین نے کھلے عام ایران کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ بيجنگ میں ہونے والی ایک اہم اعلیٰ سطحی ملاقات میں چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای نے تہران کی خودمختاری، سلامتی اور قومی دفاع کی مکمل تائید کا اعادہ کیا ہے۔
بیجنگ میں غیر معلنہ ملاقات اور چینی نقطہ نظر:
چین کی وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ سرکاری بیان کے مطابق، چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ای نے بیجنگ میں ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے ڈپٹی سیکریٹری علی باقری کنی سے ملاقات کی، جس کا پہلے سے کوئی باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا تھا۔
ملاقات کے دوران چینی وزیرِ خارجہ نے واضح کیا کہ “چین اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کی کوششوں میں ایران کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔” وانگ ای نے مزید کہا کہ تمام متعلقہ فریقوں کو جذباتی اور عجلت پسندانہ فیصلوں سے گریز کرتے ہوئے عقل مندی، فہم اور عملی پسندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے عالمی برادری اور امریکہ پر زور دیا کہ خطے کو بار بار مسلح تصادم اور خطرناک جنگوں میں دھکیلنے کے بجائے معاملے کے پرامن اور پائیدار سیاسی حل پر توجہ مرکوز کی جائے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا انتباہ اور ایرانی ردِعمل:
یہ سفارتی محاذ آرائی اس وقت مزید شدت اختیار کر گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایرانی ملٹری انفراسٹرکچر اور دفاعی صلاحیتوں کے ایک بڑے حصے کو مفلوج کر دیا ہے، لیکن ابھی بھی ایک یا دو اہم اہداف باقی ہیں جنہیں نشانہ بنانا ضروری ہے۔ ٹرمپ کی اس سنگین دھمکی نے مشرقِ وسطیٰ میں نويں جنگ کے خدشات کو جنم دیا ہے۔
امریکی دھمکیوں کے جواب میں تہران انتظامیہ نے بھی اپنے سخت موقف کا اعادہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی افواج کی جانب سے کوئی بھی نئی پیش قدمی یا حملہ کیا گیا تو ایران اس کا منہ توڑ اور دردناک جواب (Reprisals) دے گا۔
مشرقِ وسطیٰ کے استحکام اور عالمی سفارت کاری پر اثرات:
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بیجنگ میں ہونے والی یہ ملاقات نہ صرف چین کی مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی سفارتی دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ یہ امریکی دباؤ کے خلاف ایران کے لیے ایک بڑی بین الاقوامی کامیابی بھی ہے۔ چین کے صدر شی جن پنگ کی ہدایت کے مطابق بیجنگ خطے میں امن و امان کے قیام اور طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے، اور امریکی موقف کے مقابلے میں چین کا یہ سخت سفارتی جواب آنے والے دنوں میں عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔













پیر 2 نومبر 2026 

