اسلام آباد( صغیر چوہدری )اسلام آباد ہائیکورٹ(Islamabad High Court) نے عدالتی کارروائی کے دوران مبینہ غلط بیانی اور عدالتی حکم کی خلاف ورزی سے متعلق توہین عدالت کیس میں ممبر اسٹیٹ سی ڈی اے زمان وٹو پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
عدالت نے ان کی جانب سے غیر مشروط معافی کی استدعا مسترد کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر نے توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر حسنین حیدر تھہیم جبکہ ممبر اسٹیٹ سی ڈی اے زمان وٹو کی جانب سے وکیل کاشف ملک اور نذیر جواد عدالت میں پیش ہوئے دوران سماعت زمان وٹو کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ غیر مشروط معافی مانگتے ہیں اور عدالت کے فیصلے کے خلاف کوئی جواز پیش نہیں کر رہے۔
تاہم چیف جسٹس نے معافی کی استدعا فوری طور پر قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ عدالتوں کے عزت و وقار کو سنجیدہ نہیں لیتے، یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم کسی کی بی ٹیم بنے بیٹھے ہیں یا حکومت جو کچھ کہے گی ہم اسے درست قرار دے دیں گے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ جب کوئی مقدمہ چیف جسٹس کی عدالت میں سماعت کے لیے مقرر ہو تو یہ سینئر کورٹ ہوتی ہے اور جب تک کیس اس عدالت میں زیر سماعت رہے متعلقہ فریق کو عدالت میں موجود رہنا چاہیے۔
مزیدپڑھیں:عالمی مالیاتی منڈی میں ڈالر کو بڑا دھچکا، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا
انہوں نے کہا کہ آپ نے ساٹھ سال سروس کی ہے، کیا آپ کو یہ معلوم نہیں کہ کون سی عدالت بڑی ہوتی ہےچیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ جس روز عدالتی حکم جاری ہو رہا تھا، اس روز طبیعت خراب ہونے کا عذر پیش کرکے دوسری عدالت میں پیش ہو گئے۔
انہوں نے واضح کیا کہ انہیں کسی کے ساتھ ذاتی رنجش یا کسی کے خلاف انتقام نہیں، تاہم عدالتی احکامات کی پاسداری ہر صورت ضروری ہے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ کا رویہ عدالتی حکم کو بلڈوز کرنے کے مترادف ہے۔
یہ تاثر نہیں جانا چاہیے کہ عام سائلین کو گھنٹوں انتظار کروایا جائے جبکہ سوٹڈ بوٹڈ افراد کو چند منٹ میں سن لیا جائے عدالت نے کیس میں تعینات پراسیکیوٹر عدنان کو بھی آئندہ سماعت پر مکمل تیاری کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے قرار دیا کہ 12 نومبر کو ممبر اسٹیٹ سی ڈی اے زمان وٹو پر فرد جرم عائد کی جائے گی اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین عدالت کیس کی مزید سماعت 12 نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے زمان وٹو کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا واضح رہے کہ زمان وٹو کی غیر قانونی تقرری کے خلاف بھی کیس اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے













منگل 3 نومبر 2026 

