پیٹرولیم قیمتوں کے حوالے سے آج بھی عوام کو خوشخبری ملے گی، وفاقی وزیر پیٹرولیم

Calender Icon منگل 3 نومبر 2026

وزیر پیٹرولیم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے عوام کو خوشخبری سنا دی۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو یقیناً بہت مشکلات کا سامنا ہے۔

آج بھی عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے خوشخبری ملے گی۔ انہوں نے عالمی منڈی میں قیمتوں میں مزید کمی ہوئی ہے، اس کا فائدہ عوام تک پہنچائیں گے۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت آئندہ سردیوں میں گیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایل این جی درآمد کرنے کی کوشش کررہی ہے، جبکہ گھریلو صارفین کو کھانا پکانے کے تینوں اوقات میں پائپ لائن کے ذریعے گیس کی فراہمی یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ ملک میں ایل پی جی کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کے باعث عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ بعض شہروں سے ایل پی جی کی قیمت 700 سے 800 روپے فی کلو تک پہنچنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں، جبکہ مختلف علاقوں میں اس کی دستیابی کے مسائل بھی موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر گزشتہ چند روز سے ایل پی جی کی فراہمی اور قیمتوں کے معاملات پر متعلقہ شعبوں سے رابطے کیے جارہے ہیں تاکہ عوام کی مجبوری سے ناجائز منافع کمانے کا سلسلہ روکا جاسکے۔

علی پرویز ملک نے بتایا کہ پاکستان میں ایل پی جی کی مجموعی سالانہ طلب تقریباً 24 لاکھ ٹن ہے، جس کے مطابق روزانہ تقریباً 6 ہزار 500 سے 7 ہزار ٹن ایل پی جی درکار ہوتی ہے۔

ان کے مطابق ملک میں روزانہ تقریباً 2 ہزار سے 2 ہزار 500 ٹن ایل پی جی مقامی طور پر پیدا کی جاتی ہے، جس میں تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار کرنے والی کمپنیوں (ای اینڈ پی) اور مقامی ریفائنریوں کا حصہ شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ماضی میں ایل پی جی کی بڑی مقدار مغربی سرحد کے ذریعے پاکستان پہنچتی تھی، تاہم سرحدی سپلائی متاثر ہونے سے اس شعبے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ باقی ماندہ ضروریات سمندری راستے سے درآمد کی جانے والی ایل پی جی کے ذریعے پوری کی جاتی ہیں۔

وزیر پیٹرولیم کے مطابق پاکستان میں سمندر کے ذریعے ایل پی جی درآمد کرنے کے لیے اینگرو اور ایس ایس جی سی ایل کے دو ٹرمینلز موجود ہیں، جن کی مجموعی ذخیرہ کرنے کی گنجائش تقریباً 14 ہزار ٹن ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں ایل پی جی کی فراہمی کا نظام طویل عرصے تک مناسب منصوبہ بندی اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھے بغیر چلتا رہا، جس کے باعث توانائی کے شعبے میں بنیادی ڈھانچے کی کمی واضح ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ماضی میں توانائی کے ذخائر، ریفائنریوں، درآمدی سہولتوں اور ایل پی جی کی ترسیل کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مطلوبہ سرمایہ کاری نہیں کی۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیراعظم نے توانائی کے تحفظ اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ایک جامع انرجی سکیورٹی آرکیٹیکچر تیار کررہی ہے، جس کے تحت ایل پی جی کی درآمد، ذخیرہ کرنے، ترسیل اور ریفائنریوں کی استعداد بڑھانے پر کام کیا جائے گا۔

وزیر پیٹرولیم کے مطابق موجودہ علاقائی صورتحال نے پاکستان کے توانائی کے نظام کی کمزوریوں کو نمایاں کردیا ہے۔ اگرچہ ملک کو بیرونی حالات کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم اپنے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہماری اپنی ذمہ داری تھی۔

وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ عالمی منڈی میں ایل پی جی کی ترسیل کا طریقہ بھی تبدیل ہوچکا ہے۔ پہلے یہ گیس زیادہ تر پریشرائزڈ کنٹینرز کے ذریعے منتقل کی جاتی تھی، لیکن اب دنیا میں ریفریجریٹڈ اور کرائیوجینک کارگوز کا استعمال بڑھ گیا ہے۔

ان کے مطابق پاکستان کے پاس بڑے ریفریجریٹڈ جہازوں سے ایل پی جی وصول کرنے اور اسے ذخیرہ کرنے کے لیے مطلوبہ سہولتیں موجود نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بڑے جہاز پاکستان پہنچ بھی جائیں تو انہیں اتارنے اور ذخیرہ کرنے کے لیے مناسب انفراسٹرکچر درکار ہوگا۔ اسی لیے حکومت ایل پی جی کے پورے درآمدی اور ترسیلی نظام کو ازسرنو بہتر بنانے کی کوشش کررہی ہے۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ دسمبر اور جنوری میں سردی اپنے عروج پر ہوگی، اس لیے حکومت ابھی سے گیس کی ضروریات پوری کرنے کے انتظامات کررہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پائپ لائن نیٹ ورک کے ذریعے گھریلو صارفین کو مہنگی ترین دستیاب گیس بھی خرید کر فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ سردیوں میں گھریلو ضروریات پوری ہوسکیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی پوری کوشش ہوگی کہ گھریلو صارفین کو ناشتے، دوپہر اور رات کے کھانے کے اوقات میں پائپ لائن کے ذریعے گیس دستیاب ہو۔

تاہم اگر گیس کی طلب اور رسد میں فرق برقرار رہا تو اس کے لیے ریشننگ یا محدود فراہمی کا نظام بھی اختیار کرنا پڑسکتا ہے۔

وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ ملک میں تقریباً ایک کروڑ صارفین گیس کے پائپ لائن نیٹ ورک سے منسلک ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں ایسے گھرانے بھی موجود ہیں جو پائپ لائن کے ذریعے گیس حاصل نہیں کرسکتے اور کھانا پکانے سمیت دیگر گھریلو ضروریات کے لیے ایل پی جی استعمال کرتے ہیں۔

ان کے مطابق سردیوں میں ان صارفین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی مناسب قیمت پر ایل پی جی کی دستیابی یقینی بنانا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ پائپ لائن سے منسلک اور اس سہولت سے محروم دونوں طرح کے صارفین کو مناسب قیمت پر ایندھن دستیاب ہو۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ وزیراعظم، وفاقی حکومت، صوبوں اور متعلقہ اداروں نے توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں کی ہیں۔ انہوں نے صدر آصف علی زرداری اور صوبائی حکومتوں کے تعاون کا بھی ذکر کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ریفائنریوں کی جانب سے حالیہ تعاون اور وفاقی حکومت کی جانب سے تقریباً 130 ارب روپے کے وسائل استعمال کرنے سمیت مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ عارضی اقدامات کے ساتھ ساتھ پاکستان کو توانائی کے شعبے میں مستقل حل کی ضرورت ہے، جس کے لیے ذخیرہ کرنے کی صلاحیت، ریفائنریوں کی استعداد، ایل پی جی درآمدی ٹرمینلز اور پورے سپلائی نیٹ ورک کو بہتر بنانا ہوگا۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت آنے والی سردیوں میں عوام کو گیس کی فراہمی اور مناسب قیمت پر ایل پی جی کی دستیابی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی۔

علی پرویز ملک نے ایل پی جی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مارچ میں سعودی آرامکو کی کنٹریکٹ پرائس 540 ڈالر فی ٹن تھی، جو حالیہ دنوں میں بڑھ کر 756 ڈالر فی ٹن ہوگئی۔

ان کے مطابق اوگرا نے سعودی آرامکو کی جانب سے اعلان کردہ عالمی قیمت کے مطابق مقامی ایل پی جی کے نرخوں میں ردوبدل کیا ہے۔ اس میں حکومت کی جانب سے من مانے انداز میں قیمت بڑھانے کا معاملہ نہیں بلکہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کا اثر ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی آرامکو ہر ماہ ایل پی جی کی کنٹریکٹ پرائس جاری کرتا ہے اور اسی کو عالمی قیمتوں کے تعین میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ 2016 میں متعارف کرائی گئی ایل پی جی پالیسی کے تحت مقامی طور پر پیدا ہونے والی گیس کی قیمت سعودی آرامکو کی ایف او بی قیمت کے مطابق مقرر کی جاتی رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان کی ایل پی جی کی ضروریات نسبتاً کم تھیں اور مقامی پیداوار سے بڑا حصہ پورا ہوجاتا تھا، تاہم معیشت اور توانائی کی ضروریات بڑھنے کے ساتھ صورتحال تبدیل ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ اب پاکستان اپنی ایل پی جی کی تقریباً 70 فیصد ضروریات درآمدات کے ذریعے پوری کررہا ہے، جبکہ پرانا قیمتوں کا فارمولا درآمدی اخراجات، شپنگ اور دیگر لاگت کو مناسب طور پر شامل نہیں کرتا تھا۔

ان کے مطابق اس صورتحال کے باعث باضابطہ درآمدی شعبہ ترقی نہیں کرسکا اور غیر رسمی ذرائع سے آنے والی ایل پی جی کی مارکیٹ میں اہمیت بڑھتی گئی۔

علی پرویز ملک نے بتایا کہ حکومت نے ایل پی جی کے شعبے میں مسابقت بڑھانے کے لیے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او)، سوئی سدرن گیس کمپنی اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ سمیت سرکاری اداروں کو عالمی منڈی سے ایل پی جی درآمد کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ان کے مطابق یہ کمپنیاں حکومت سے حکومت (جی ٹو جی) اور کاروباری اداروں کے درمیان (بی ٹو بی) معاہدوں کے ذریعے بلک بنیادوں پر ایل پی جی خرید سکیں گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کے ادارہ جاتی قواعد میں بھی ایل پی جی کی فراہمی کی گنجائش موجود ہے، اس لیے اس کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیر پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ نجی شعبے کو بھی ایل پی جی درآمد کرنے کی مکمل حوصلہ افزائی کی جائے گی تاکہ زیادہ سپلائی آنے سے مارکیٹ میں مسابقت پیدا ہو اور صارفین کو کم قیمت پر ایندھن دستیاب ہوسکے۔

درآمدی ایل پی جی کی قیمت اور اخراجات عوام کے سامنے لائے جائیں گے
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت ایل پی جی کی قیمتوں کے نظام میں شفافیت لانا چاہتی ہے اور اس مقصد کے لیے تمام سرکاری کمپنیاں اپنی ویب سائٹس پر ماہانہ بنیادوں پر درآمدی اخراجات کی تفصیلات شائع کریں گی۔

ان تفصیلات میں سعودی آرامکو کی کنٹریکٹ پرائس، درآمدی پریمیم، شپنگ یا فریٹ کے اخراجات اور دیگر متعلقہ لاگت شامل ہوگی۔

ان کے مطابق اس طریقہ کار سے عوام کو معلوم ہوسکے گا کہ درآمدی ایل پی جی کس قیمت پر خریدی گئی اور ملک میں کس نرخ پر فروخت کے لیے پیش کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نجی درآمد کنندگان کو بھی مسابقت کے لیے مواقع فراہم کیے جائیں گے اور حکومت کی خواہش ہوگی کہ نجی کمپنیاں سرکاری اداروں سے بھی کم قیمت پر ایل پی جی فراہم کریں۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ ایل پی جی کے شعبے میں کئی دہائیوں سے مخصوص عناصر کے مفادات کے لیے کوٹہ اور الاٹمنٹ کا نظام چلتا رہا، جس کے باعث چند افراد کو غیر معمولی فائدہ پہنچتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے متعلقہ اجلاس میں ہدایت کی ہے کہ مقامی ایل پی جی کی تقسیم کے نظام میں بھی شفافیت اور مسابقت متعارف کرائی جائے۔

اس مقصد کے لیے مقامی پیداوار کرنے والی کمپنیوں کو ہدایت دی جائے گی کہ وہ پانچ، دس یا دیگر مقررہ مقدار کی چھوٹی لاٹیں بنا کر نیلامی کے ذریعے فروخت کریں۔

وزیر پیٹرولیم کے مطابق ان نیلامیوں کے نتائج بھی عوام کے سامنے شائع کیے جائیں گے اور پورا عمل کمپنیوں کے بورڈز، سیکریٹری پیٹرولیم اور چیئرمین اوگرا کی نگرانی میں مکمل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے اوگرا کے لائسنس یافتہ خریداروں کو شفاف طریقے سے ایل پی جی خریدنے کا موقع ملے گا اور مخصوص افراد کو کوٹہ دینے کا سلسلہ ختم ہوسکے گا۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ ایل پی جی پالیسی میں مشکل اور دور دراز علاقوں کے لیے 10 فیصد کوٹے کی گنجائش موجود ہے، تاہم ماضی میں اس کوٹے کی تقسیم کے نظام میں شفافیت کے مسائل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر سرکاری کمپنیوں کو پابند کیا جائے گا کہ وہ مقامی پروڈیوسرز سے یہ کوٹہ حاصل کریں اور صوبائی چیف سیکرٹریوں کی مشاورت سے ان اضلاع کی نشاندہی کریں جہاں ایل پی جی کی فراہمی مشکل ہے۔

ان کے مطابق متعلقہ اضلاع میں یہ کوٹہ منصفانہ انداز میں تقسیم کیا جائے گا تاکہ دور دراز علاقوں کے عوام کو بھی مناسب قیمت پر ایندھن دستیاب ہوسکے۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت کا سب سے اہم مقصد یہ ہے کہ عالمی منڈی سے درآمد ہونے والی ایل پی جی کی قیمتوں کے اثرات سے غریب اور کم آمدن والے خاندانوں کو محفوظ رکھا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ نئی پالیسی کے تحت مقامی ایل پی جی پروڈیوسرز کو ایف او بی قیمت کی بنیاد پر ادائیگی ہوگی، جبکہ شفاف نیلامی کے ذریعے حاصل ہونے والی اضافی رقم کو مخصوص فنڈز میں منتقل کیا جائے گا۔

ان کے مطابق اس مقصد کے لیے دو فنڈز قائم کرنے کی تجویز ہے:پرائس اسٹیبلائزیشن فنڈ: ایل پی جی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات کم کرنے کے لیے استعمال ہوگا۔ ولنریبل پروٹیکشن فنڈ: کمزور اور مستحق طبقوں کو سستی ایل پی جی فراہم کرنے کے لیے مختص ہوگا۔

وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ مستحق افراد کی شناخت کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے معیار سے مدد لی جائے گی، جبکہ وزارت توانائی اور صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے بھی اہلیت کا طریقہ کار طے کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس نظام کے ذریعے اضافی آمدن کو مستحق صارفین تک منتقل کیا جائے گا تاکہ انہیں عالمی منڈی کی قیمتوں کے مطابق مکمل مالی بوجھ برداشت نہ کرنا پڑے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کسی ایک سرکاری ادارے کو ایل پی جی کی درآمد یا فروخت میں اجارہ داری نہیں دینا چاہتی بلکہ سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان حقیقی مسابقت پیدا کرنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نجی کمپنیاں بھی عالمی مارکیٹ سے ایل پی جی خرید کر پاکستان لاسکیں گی اور جو کمپنی کم لاگت پر بہتر معیار کا ایندھن فراہم کرے گی، اسے مارکیٹ میں مقابلے کا موقع ملے گا۔

ان کے مطابق مسابقت بڑھنے سے درآمدی لاگت کم کرنے، سپلائی بہتر بنانے اور صارفین کو مناسب قیمت پر ایل پی جی فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

مزید پڑھیں:جان سینا کی ڈبلیو ڈبلیو ای میں واپسی، مداحوں کے لیے بڑا اعلان !

علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ حکومت کا ہدف صرف ایل پی جی درآمد کرنا نہیں بلکہ پورے شعبے کو شفاف، مسابقتی اور عوام دوست بنانا ہے، تاکہ ایک طرف توانائی کی ضروریات پوری ہوں اور دوسری جانب کمزور طبقے کو قیمتوں میں اضافے سے تحفظ فراہم کیا جاسکے۔