اسلام آباد : حکومت نے چیک(cheque) کے ذریعے ادائیگیاں ختم کر کے 16 نومبر سے نیا ڈیجیٹل نظام نافذ کرنے کا اعلان کردیا۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں کیش لیس معیشت کے فروغ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزراء، گورنر اسٹیٹ بینک، صوبائی چیف سیکریٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کیش لیس معیشت کا فروغ حکومت کی اہم ترین ترجیحات میں شامل ہے اور اس اقدام کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں تمام ادائیگیوں کو 100 فیصد ڈیجیٹل بنانے کے لیے واضح لائحہ عمل اور سخت اہداف مقرر کیے جائیں اور کیش لیس معیشت کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے ملک بھر میں بلا تعطل انٹرنیٹ سروس کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
شہباز شریف نے ہدایت کی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں صارفین کو پیش آنے والے مسائل اور شکایات کو فوری طور پر حل کیا جائے ساتھ ہی بجلی اور گیس کے بلوں پر کیو آر (QR) کوڈ کے ذریعے ادائیگیوں کی ترغیب دینے کے لیے فوری میڈیا مہم چلائی جائے۔
مزیدپڑھیں:چینی موٹر سائیکلیں بھی یورپی منڈیوں میں پہنچ کر معروف برانڈز کے لیے بڑا چیلنج بن گئیں
وزیراعظم نے کہا کہ ‘راست کیو آر کوڈ’ کے ذریعے ادائیگیوں کے فروغ کی اسکیم جاری رکھی جائے، یہ نظام کیش لیس معیشت کے وژن میں مرکزی معاون ہے۔
انھوں نے تمام وفاقی وزارتوں اور سرکاری اداروں کو کیش لیس منصوبے پر بلا تاخیر عملدرآمد کی ہدایت کی۔
اجلاس کے دوران حکام نے وزیراعظم کو پیشرفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا وفاقی اور صوبائی اداروں میں ادائیگیوں کو ڈیجیٹل کرنے کا عمل تیزی سے جاری ہے اور بیشتر سرکاری اداروں کی تمام ادائیگیاں دسمبر 2026 تک مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو جائیں گی جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی 100 فیصد ادائیگیاں اب ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے کی جا رہی ہیں۔
15 نومبر 2026 سے آسان اسائنمنٹ اکاؤنٹس کی چیک کے ذریعے ادائیگیاں ختم کی جا رہی ہیں، اور 16 نومبر 2026 سے یہ ادائیگیاں مکمل طور پر ‘راست’ ڈیجیٹل نظام سے منتقل ہو جائیں گی۔
اس نظام کو چلانے کے لیے تمام ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ افسران کو تربیت دی جا چکی ہے، جبکہ انٹرنیٹ کی عدم دستیابی والے علاقوں کے لیے جدید متبادل ڈیجیٹل نظام پر بھی کام جاری ہے۔













ہفتہ 7 نومبر 2026 