نئی آٹو پالیسی سے گاڑیوں کی قیمتیں کم ہوں گی، ہارون اختر

Calender Icon ہفتہ 7 نومبر 2026

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر نے کہا ہے کہ نئی آٹو پالیسی کے تحت گاڑیوں کی قیمتوں میں بتدریج کمی آئے گی، جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کی فنانسنگ کی حد 20 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ہارون اختر نے کہا کہ حکومت صنعتی ترقی، مقامی پیداوار اور برآمدات میں اضافے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ نئی آٹو پالیسی طویل مشاورت کے بعد تیار کی گئی ہے، جس کا مقصد گاڑیوں کی پیداواری لاگت کم کرنا اور عوام کو سستی گاڑیاں فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایک ہزار سی سی سے کم انجن والی گاڑیوں پر کوئی اضافی ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا۔ نئی پالیسی سے متوسط اور بالائی متوسط طبقے کے لیے گاڑیوں کی قیمتوں میں بتدریج کمی متوقع ہے۔

ہارون اختر کے مطابق گاڑیوں کے شعبے میں مقامی پرزہ جات کی تیاری کو ترجیح دی جائے گی تاکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔ برآمدی اہداف حاصل کرنے والی کمپنیوں کو انعامات دیے جائیں گے، جبکہ گاڑیوں کے حفاظتی معیارات بہتر بنانا بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے خصوصی مراعات متعارف کرائی گئی ہیں۔ چارجنگ اسٹیشنز کے آلات پر کسٹم ڈیوٹی ایک فیصد اور ٹیکس صفر کر دیا گیا ہے۔ پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث الیکٹرک گاڑیوں کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

اس موقع پر وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم کی خصوصی توجہ کم آمدنی اور متوسط طبقے کو سہولت فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال سے نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئے گی بلکہ ملک کے درآمدی بل کو بھی کم کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ درآمدات پر خرچ ہونے والے زرمبادلہ کی بچت سے صحت اور تعلیم جیسے اہم شعبوں کے لیے اضافی وسائل دستیاب ہو سکیں گے۔

حکومتی حکام کے مطابق نئی آٹو پالیسی کا مقصد گاڑیوں کی صنعت کو مسابقتی بنانا، مقامی پیداوار بڑھانا اور صارفین کو نسبتاً کم قیمت پر گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔