دنیا میں 90 فیصد افراد دائیں ہاتھ سے کام کیوں کرتے ہیں؟ سائنسدانوں نے وجہ بتادی

Calender Icon اتوار 8 نومبر 2026

اگر آپ اس وقت موبائل فون(Mobile Phone) استعمال کر رہے ہیں تو امکان ہے کہ آپ اسے دائیں ہاتھ(Right Handed) سے پکڑ کر اسکرول کر رہے ہوں۔

دنیا کی تقریباً 85 سے 90 فیصد آبادی دائیں ہاتھ سے کام کرنے کی عادی ہے، جبکہ صرف 10 سے 15 فیصد افراد بائیں ہاتھ سے کام کرتے ہیں، اس کے علاوہ کچھ افراد ایسے بھی ہیں جو دونوں ہاتھ یکساں طور پر استعمال کرسکتے ہیں۔

اعداد و شمار میں مختلف خطوں کے لحاظ سے معمولی فرق ہوسکتا ہے، تاہم دنیا میں کوئی ایسی انسانی آبادی موجود نہیں جہاں بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد کی تعداد دائیں ہاتھ والوں سے زیادہ ہو۔

برطانیہ کی یونیورسٹی آف چیسٹر کے شعبہ نفسیات کے سینئر لیکچرر پال روڈوے کے مطابق سوال یہ ہے کہ آخر انسانوں کی اکثریت ایک ہی ہاتھ کو ترجیح کیوں دیتی ہے؟

ماہرین کے مطابق کسی فرد کے دائیں یا بائیں ہاتھ سے کام کرنے کی عادت پر اس کے ماحول اور معاشرتی روایات کا بھی اثر پڑتا ہے۔

ایشیا، عرب اور افریقی ممالک کی بعض ثقافتوں میں بائیں ہاتھ کو ناپاک تصور کیا جاتا ہے، جس کے باعث بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے بچوں کو پابندیوں اور سزا کے ذریعے دائیں ہاتھ سے کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

پال روڈوے کے مطابق جن معاشروں میں بائیں ہاتھ کے استعمال کے خلاف سماجی دباؤ زیادہ ہوتا ہے، وہاں بائیں ہاتھ سے کام کرنے والوں کی شرح بھی کم ہوتی ہے۔

مزیدپڑھیں:دوست کی اہلیہ میرے لیے بے ہوش ہوگئیں، زیب خان کا انکشاف

ایسے معاشروں میں بھی جہاں اس حوالے سے کوئی سماجی تعصب موجود نہیں، بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد اقلیت میں ہی رہتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق مختلف ثقافتوں میں اس رجحان کا برقرار رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس کی بنیاد حیاتیاتی عوامل میں بھی موجود ہے۔

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ کسی ایک ہاتھ کو ترجیح دینے کا رجحان پیدائش سے پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے۔

نیدرلینڈز میں میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ اور ریڈباؤڈ یونیورسٹی میڈیکل سینٹر سے وابستہ دماغی تحقیق کے ماہر پروفیسر کلائیڈ فرینکس کے مطابق ماں کے پیٹ میں موجود بچے کی حرکات میں بھی ہاتھ کی ترجیح دیکھی جاسکتی ہے۔

الٹراساؤنڈ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ حمل کے دسویں ہفتے تک زیادہ تر بچے اپنا دایاں بازو بائیں بازو کی نسبت زیادہ حرکت دیتے ہیں، جبکہ پندرہویں ہفتے سے اکثر بچے اپنا دایاں انگوٹھا چوسنا شروع کردیتے ہیں۔

پروفیسر کلائیڈ فرینکس کے مطابق ممکنہ طور پر دائیں ہاتھ سے کام کرنے کا رجحان دماغ کی ابتدائی نشوونما کے دوران جینیاتی طور پر تشکیل پاتا ہے۔

تحقیقات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ درجنوں جینز، جن کی تعداد تقریباً 40 تک ہوسکتی ہے، کسی فرد کے دائیں یا بائیں ہاتھ سے کام کرنے کے رجحان میں کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ جینز براہ راست کسی ایک ہاتھ کا تعین کرنے کے بجائے دماغ کی ساخت اور نشوونما پر اثر انداز ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں عموماً دایاں ہاتھ غالب رہتا ہے۔