بلاول بھٹو کی سوشل میڈیا پوسٹ طے شدہ پالیسی کے مطابق تھی، عوام کو آگاہ کرنا ضروری تھا: شیری رحمان

Calender Icon منگل 4 نومبر 2025

اسلام آباد : پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما اور سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے میں کئی نکات شامل ہیں جن پر پارٹی کے سینئر اراکین سے تفصیلی رائے لی جائے گی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیری رحمان نے بتایا کہ حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ پیپلز پارٹی کے ساتھ شیئر کیا ہے اور جمعہ کے روز یہ مسودہ سینیٹ کمیٹی کے حوالے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 8 اور 9 نومبر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں ترمیم پر بحث ہو گی، جبکہ 10 نومبر کو ترمیم کو سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

شیری رحمان کے مطابق 14 نومبر کو 27ویں آئینی ترمیم قومی اسمبلی میں پیش کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کے اجلاس میں بل کے خدوخال پر مشاورت ہو گی اور آئینی ترمیم پر پارٹی کی حتمی رائے طے کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ “بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کو پہلے ہی آگاہ کیا تھا کہ وہ معاملے کو عوام اور پارٹی کے سامنے لے کر جائیں گے، ان کی سوشل میڈیا پر پوسٹ اسی طے شدہ پالیسی کے تحت تھی تاکہ عوام کو اعتماد میں لیا جا سکے۔”

شیری رحمان نے مزید کہا کہ “ہم (ن) لیگ کے اتحادی ہیں مگر ہمارا منشور اور سیاسی تشخص جدا ہے۔ صوبائی خودمختاری کے معاملے پر پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح ہے اور حکومت بھی اسے بخوبی سمجھتی ہے۔”

انہوں نے کہا کہ میثاقِ جمہوریت میں طے کیا گیا تھا کہ ملک میں آئینی عدالت قائم کی جائے گی، اس سلسلے میں 27ویں آئینی ترمیم کے تحت مختلف پہلوؤں پر غور ہو رہا ہے۔

شیری رحمان نے بتایا کہ جمعرات کو اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے جس میں دیگر قومی امور پر تبادلہ خیال ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ “18ویں آئینی ترمیم کی صورت میں 1973ء کا آئین اپنی اصل شکل میں بحال ہوا تھا، پیپلز پارٹی ہمیشہ آئینی بالادستی، وفاقی استحکام اور جمہوری تسلسل کی حامی رہی ہے۔”

شیری رحمان نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم پر کوئی بھی فیصلہ پارٹی کے اندر مشاورت کے بعد کیا جائے گا اور یہ عمل شفاف، جمہوری اور آئینی اصولوں کے مطابق مکمل کیا جائے گا۔