بھارت میں ایوی ایشن بحران، چمکتی معیشت کے پیچھے چھپا تاریک نظام

Calender Icon پیر 29 دسمبر 2025

نئی دہلی: (ویب ڈیسک) بھارت میں 2025 کے دوران سامنے آنے والا ایوی ایشن بحران محض ایئرلائن حادثات تک محدود نہیں رہا بلکہ بھارتی ترقی کے دعوؤں پر بھی سنجیدہ سوالات اُٹھا رہا ہے۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق پروازوں کی منسوخی اس حقیقت کا اظہار تھی کہ ریاست قوانین پر عملدرآمد کی صلاحیت کھو چکی ہے۔

رواں سال ہی احمد آباد میں ایئر انڈیا کے ایک طیارے کی تباہی میں 260 افراد ہلاک ہوئے۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق حادثے کے بعد تحقیقات مبہم رہیں جبکہ سامنے آنے والی رپورٹس بھی غیر واضح تھیں۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ اس پورے عمل نے عوام کے ذہن میں یہ احساس پیدا کیا کہ نظام نہ مضبوط ہے اور نہ ہی شفاف۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق عوام میں یہ تاثر بھی ابھرا کہ ریاست سچ سامنے لانے کی اہلیت نہیں رکھتی۔ ایوی ایشن انڈسٹری کے اندر موجود آوازوں کا کہنا ہے کہ عوام کا بھارتی ایئرلائنز پر اعتماد ختم ہو چکا ہے جبکہ پندرہ سے زائد ایئرلائنز کا دیوالیہ ہونا اس نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بے شمار طیارہ حادثات بھارتی ایئرلائنز کی ایوی ایشن صلاحیتوں پر سوالیہ نشان ہیں۔ پھشکر نیوز کے مطابق آر ٹی آئی کے تحت سامنے آنے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ پچھلے پانچ سالوں میں بھارت میں 53 فضائی حادثات پیش آئے جن میں 320 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ فضائی حادثات کی شرح میں 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جن میں بوئنگ طیارے، ہیلی کاپٹرز اور نجی جیٹس شامل تھے۔ پاکستان کی فضائی حدود کی بندش نے بھی بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔

مبصرین کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی اپنی ہندوتوا شدت پسند پالیسیوں کے بوجھ تلے دب چکے ہیں اور اب ترقی کے کھوکھلے اور بے بنیاد دعوے ہی ان کا سیاسی سہارا بن کر رہ گئے ہیں۔