ڈیووس 2026: پاکستان نے بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کر لی

Calender Icon جمعرات 22 جنوری 2026

پاکستان نےورلڈ اکنامک فورم 2026 میں امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پربورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کی، جس کا مقصد فلسطین میں پائیدار امن قائم کرنا ہے۔
بورڈ آف پیس کا بنیادی مقصدغزہ میں مستقل جنگ بندی، انسانی بحران کا خاتمہ اور فلسطین کی منظم و جامع تعمیرِ نو ہے۔ اس منصوبے کے تحت گھروں، اسپتالوں، اسکولوں، پانی و بجلی کے نظام کی بحالی، معاشی سرگرمیوں کی فروغ اور فلسطینی عوام کو باعزت زندگی فراہم کرنا شامل ہے۔ یہ اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کیے جائیں گے۔
پاکستان نے اس اقدام میںسعودی عرب، ترکی، مصر، اردن، قطر، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، بحرین، مراکش، ارجنٹائن، ہنگری اور امریکہ کے ساتھ شمولیت اختیار کی ہے۔ مسلم ممالک کی مضبوط موجودگی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ فلسطینی حقوق، حقِ خود ارادیت اور ریاستی تشخص مرکزی حیثیت رکھیں۔
پاکستان کا موقف بدستور واضح اور غیر متزلزل ہے:1967 سے قبل کی سرحدوں پر ایک آزاد فلسطینی ریاست، القدس الشریف اس کا دارالحکومت، اور قبضے و اجتماعی سزا کی ہر صورت مخالفت۔
تقریب کے دوران فلسطینی وزیرِاعظم محمد مصطفیٰ نے وزیرِاعظم شہباز شریف سے راستے میں ملاقات کی، مصافحہ کیا اور غزہ میں امن کے لیے پاکستان کی مستقل حمایت، نسل کشی کے خاتمے کی کوششوں اور فلسطینی عوام کے حق میں مضبوط موقف پر شکریہ ادا کیا۔
دستخطی تقریب میں وزیرِاعظم شہباز شریف اور امریکی صدر کے درمیان خوشگوار تبادلۂ خیال ہوا، اور صدر ٹرمپ نےفیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہیں انگوٹھے کے اشارے سے سراہا۔ یہ پاکستان کی قیادت کی ہم آہنگی اور عالمی سطح پر حاصل شدہ پذیرائی کا مظہر ہے۔
واضح رہے کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کسی فوجی مشن یا اسٹیبلائزیشن فورس میں خودکار شمولیت کا مطلب نہیں رکھتی۔ پاکستان کا موقف پہلے سے واضح ہے کہ وہ عالمی سیاست میںبلاک بندی سے اجتناب کرتے ہوئے توازن، اصول پسندی اور مؤثر سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے، اور فلسطین کے معاملے میں خاموشی اختیار کرنے کے بجائےفعال کردار ادا کرنے پر یقین رکھتا ہے۔