کوئٹہ (ویب ڈیسک) بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی شہداء کے لواحقین کے حوصلے پست نہ کر سکی۔ شہداء کے اہل خانہ آج بھی صبر، استقامت اور وطن سے غیر متزلزل محبت کی روشن مثال بنے ہوئے ہیں۔
شہداء کے لواحقین نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے پیاروں کو وطن کی حفاظت کیلئے قربان کیا اور انہیں اس پر فخر ہے۔ شہید ایس ایچ او ساجد بلوچ کے والد نے بتایا کہ میرا بیٹا مچھ میں تعینات تھا، جہاں اس نے بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا اور لوگوں کی جان بچاتے ہوئے شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔
شہید صدیق بلوچ کے والد کا کہنا تھا کہ میرے بیٹے نے گولی لگنے کے باوجود کہا تھا کہ کسی دہشت گرد کو نہیں چھوڑوں گا۔ اس کے جذبے نے ہمارے سر فخر سے بلند کر دیے ہیں۔
شہید کانسٹیبل شہزاد کی بیٹی نے کہا کہ میرے والد مجھے بہت عزیز تھے لیکن مجھے فخر ہے کہ انہوں نے ملک کیلئے جان دی۔ شہید کے بھائی کا کہنا تھا کہ ایک بھائی کیا ہے، ہم جتنے بھی بھائی ہیں اگر ملک کیلئے قربان ہو جائیں تو ہمیں کوئی دکھ نہیں۔
شہداء کے لواحقین نے واضح کیا کہ دہشت گردی ان کے حوصلے توڑ نہیں سکتی اور نہ ہی وطن سے محبت کم کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے یہ شہداء آنے والی نسلوں کیلئے مشعلِ راہ اور پوری قوم کیلئے باعثِ فخر ہیں۔
قوم شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی اور ان کے مشن کو ہر صورت آگے بڑھایا جائے گا۔












بدھ 4 فروری 2026 