بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 18 دہشت گرد ہلاک

Calender Icon بدھ 1 اکتوبر 2025

بلوچستان کے دو مختلف اضلاع میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر اہم کارروائیاں کرتے ہوئے 18 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ ان کارروائیوں کا مقصد صوبے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی لہر کو روکنا اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
  بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گردوں کا خاتمہ
کوئٹہ کے نواحی پہاڑی علاقے غزا بند میں سیکیورٹی فورسز نے ایک مربوط آپریشن کے دوران 10 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ یہ دہشت گرد مبینہ طور پر بھارتی سرپرستی میں کام کر رہے تھے اور سیکیورٹی اہلکاروں و تنصیبات پر حملوں میں ملوث تھے۔
آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں سیکیورٹی فورسز کے دو اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ فورسز نے علاقے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر تخریبی مواد بھی برآمد کیا۔ پولیس حکام کے مطابق، ہلاک دہشت گرد صوبے میں تخریبی کارروائیوں کے متعدد واقعات میں مطلوب تھے۔
  فتنہ الخواج گروپ کے خلاف کارروائی
ضلع شیرانی میں ہونے والے ایک علیحدہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن میں “فتنہ الخواج” نامی کالعدم گروہ کے 8 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، یہ کارروائی بھی حساس معلومات کی بنیاد پر کی گئی اور فائرنگ کے تبادلے میں دشمن عناصر کو پسپا کر دیا گیا۔
 دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ
بلوچستان میں حالیہ مہینوں کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز نے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ گزشتہ روز کوئٹہ کے حالی روڈ پر فرنٹیئر کور (ایف سی) کے ہیڈکوارٹر پر حملے میں خودکش حملہ آور سمیت 6 دہشت گرد مارے گئے، تاہم اس افسوسناک واقعے میں 2 ایف سی اہلکاروں سمیت 10 افراد شہید اور 24 سے زائد زخمی ہوئے۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) کی رپورٹ کے مطابق اگست 2025 کے دوران بلوچستان میں دہشت گردی کے 28 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 52 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ ان میں 23 سیکیورٹی اہلکار، 21 شہری اور 8 دہشت گرد شامل تھے، جب کہ 45 افراد زخمی بھی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق عسکریت پسندوں نے کم از کم 5 افراد کو اغوا بھی کیا۔ اس دوران سیکیورٹی فورسز نے 50 عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا، جو جون 2015 کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔