آئی ایم ایف نے حکومت کے قول و فعل میں تضاد پر سوالات اٹھا دیئے

Calender Icon بدھ 11 مارچ 2026

اسلام آباد(نیوزڈیسک)چیئرمین نیب سمیت اہم اداروں کے سربراہان کو توسیع نہ دینے پر زور۔آئی ایم ایف نے حکومت کے قول و فعل میں تضاد پر سوالات اٹھا دیئے۔پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان اقتصادی جائزہ مذاکرات کے آخری روز آئی ایم ایف مشن نے حکومت کے قول و فعل میں تضاد پر سوالات اٹھا دیئے۔

آئی ایم ایف نے ارکان پارلیمنٹ کو اثاثے ظاہر کرنے سے استثنیٰ دینے کے مجوزہ قانون پر تحفظات کا اظہار کردیا جبکہ چیئرمین نیب سمیت اہم اداروں کے سربراہان کو توسیع نہ دینے اور مزید شفافیت پر زور دیا۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن نے گورننس اور اینٹی کرپشن اقدامات مزید مضبوط بنانے، اعلی سرکاری افسران کے اثاثوں کی جانچ پڑتال کا عمل تیز کرنے کا مطالبہ کردیا۔ آئی ایم ایف نے ٹیکس وصولی بڑھانے کیلئے پائیدار اصلاحات کا مطالبہ کیا۔

حکومت نے مالی ڈسپلن پر عملدرآمد اور 1468ارب پیٹرولیم لیوی وصول کرنے کا وعدہ کیا، حکومت نے سعودی عرب سمیت دوست ممالک سے فنانسنگ میں توسیع پر اعتماد میں لیا۔ حکومت نے آئی ایم ایف کو کفایت شعاری اقدامات پر عمل درآمد سے بھی آگاہ کیا۔

آئی ایم ایف کو پرائمری سرپلس اور زرمبادلہ ذخائر میں پیش رفت پر بھی بریفنگ دی گئی، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری میں ممکنہ تاخیر کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ فنانسنگ گیپ، ٹیکس ریونیو میں شارٹ فال پورا کرنے کے معاملے پر مزید مذاکرات ہوں گے۔حکام وزارت خزانہ کے مطابق مذاکرات تعمیری رہے،اسٹاف لیول معاہدے کیلئے کوششیں جاری ہیں، تاخیر کی صورت میں مذاکرات کے مزید دور ہونے کا امکان ہے۔ معاہدے میں تاخیر کی صورت میں مذاکرات کے مزید ورچوئل دور کرنا پڑیں گے۔