امتِ مسلمہ کو متحد ہو کر مستقبل کا فیصلہ کرنا ہوگا، فلسطین پوری امت کا مسئلہ ہے: مولانا فضل الرحمان

Calender Icon ہفتہ 14 مارچ 2026

لاہور (نیوز ڈیسک) جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں پوری امتِ مسلمہ کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا اور اپنے مستقبل کے بارے میں مشترکہ اور مضبوط حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔

لاہور میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ تاریخ نے اسلامی دنیا کو بہت کچھ سکھایا ہے۔ ان کے مطابق امریکا اور مغربی دنیا کے ساتھ دوستی کے جو نتائج سامنے آئے ہیں وہ آج پوری امتِ مسلمہ کے سامنے واضح ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار پانچ دہائیوں کے دوران اسلامی دنیا کے تحفظ کے نام پر جو فیصلے کیے گئے، آج وہی اقدامات عدم تحفظ کا سبب بنتے نظر آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین یا بیت المقدس کا مسئلہ صرف ایران کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا مسئلہ ہے اور اس پر امت کی سطح پر ایک متحد اور مضبوط مؤقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بدقسمتی سے مسلم دنیا داخلی اختلافات اور باہمی تنازعات میں الجھ گئی ہے جس کے باعث مشترکہ مسائل پر متفقہ حکمت عملی سامنے نہیں آ سکی۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین اور بیت المقدس کی آزادی کا مسئلہ آج بھی امتِ مسلمہ کے سامنے ایک بڑا چیلنج ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت پیچیدہ علاقائی حالات سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف بھارت کے ساتھ مشرقی سرحد پر کشیدگی ہے جبکہ دوسری طرف افغانستان کے ساتھ مغربی سرحد پر بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ اس کے علاوہ خطے میں دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات اور عالمی سیاست کے تقاضے بھی پاکستان کے لیے اہم سوالات پیدا کر رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایسے حالات میں محض ایک دوسرے پر تنقید کرنا یا مختلف ممالک کی پالیسیوں پر بحث کرنا کافی نہیں بلکہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ پاکستان اس تمام صورتحال میں کہاں کھڑا ہے اور اس کی خارجہ پالیسی کا رخ کیا ہونا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ جمعیت علماء اسلام نے پارلیمنٹ کے فلور پر تجویز پیش کی ہے کہ موجودہ علاقائی اور عالمی صورتحال پر غور کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اِن کیمرہ اجلاس بلایا جائے تاکہ عوامی نمائندے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں اور قومی سلامتی سے متعلق امور پر جامع مشاورت ہو سکے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے حساس معاملات کو گلی کوچوں یا جلسوں میں زیر بحث لانے کے بجائے پارلیمنٹ کے اندر سنجیدگی کے ساتھ زیر غور لایا جانا چاہیے تاکہ حکومت اور ریاستی ادارے قوم اور اس کے نمائندوں کو اعتماد میں لے سکیں۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو اپنے مستقبل کے لیے پرامن اور بہتر ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات تلاش کرنے ہوں گے اور اس مقصد کے لیے سیاسی اور سفارتی راستے اختیار کرنا ہوں گے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ جنگ سے مزید جنگ جنم لیتی ہے۔ ان کے مطابق جہاں جنگ ہوتی ہے وہاں آگ ہی پھیلتی ہے جو سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے، اس لیے موجودہ حالات میں تحمل، برداشت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنا ناگزیر ہے۔