اسلام آباد (نیوز ڈیسک) آصف علی زرداری نے اسلاموفوبیا کے تدارک کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تعصب کے خاتمے کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ اسلام امن، ہمدردی اور انصاف کا دین ہے اور اسے انتہا پسندی سے جوڑنا لاعلمی کی عکاسی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری نفرت انگیز جرائم کے خلاف قانونی تحفظ کو مزید مضبوط بنائے تاکہ کسی بھی مذہب یا عقیدے سے تعلق رکھنے والے افراد کو امتیازی سلوک کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
انہوں نے کہا کہ اظہارِ رائے کی آزادی ایک بنیادی حق ہے تاہم اسے نفرت اور تعصب پھیلانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ صدر مملکت کے مطابق مذہبی تنوع کے احترام اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
صدر زرداری نے Christchurch mosque shootings کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والا واقعہ تھا جس نے اسلاموفوبیا کے خطرناک رجحان کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی فورمز پر مسلسل آواز اٹھاتا رہا ہے اور اس مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے سفارتی سطح پر کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی مختلف معاشروں کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں تاہم مسلمانوں کے خلاف بڑھتا ہوا تعصب ان کے تحفظ اور وقار کو متاثر کرتا ہے۔
صدر مملکت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مساوی حقوق اور مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل کمیشن برائے اقلیتی حقوق قانون دو ہزار پچیس نافذ کیا جا چکا ہے جبکہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک آزاد قومی کمیشن کے قیام کا عمل بھی جاری ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے عالمی برادری پر زور دیا کہ تعصب کے خاتمے، مکالمے کے فروغ اور مذہبی عقائد کے احترام کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں تاکہ دنیا میں باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دیا جا سکے۔












اتوار 15 مارچ 2026 