مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی صورت حال اور تیل کی اہم گزر گاہ آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے۔
سنگاپور مارکیٹ میں لندن برینٹ کروڈ اور امریکی خام تیل دونوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، سنگاپور مارکیٹ میں لندن برینٹ کروڈ کی قیمت ایک ڈالر 37 سینٹس اضافے کے بعد 104 ڈالر 47 سینٹس فی بیرل ہو گئی ہے۔
اسی طرح اپریل کے لیے امریکی خام تیل کے سودے 99 ڈالر 27 سینٹس فی بیرل میں طے پا رہے ہیں، جس میں 56 سینٹس فی بیرل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورت حال کے باعث عالمی توانائی منڈی پر دباؤ برقرار ہے۔ اس سے قبل خطے میں کشیدگی کے دوران خام تیل کی عالمی قیمتیں بڑھ کر 119 ڈالر فی بیرل تک بھی پہنچ چکی تھیں۔
ایران کی جانب سے عالمی تجارت کے اہم ترین راستے آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش نے سپلائی چین کو بری طرح متاثر کیا ہے، دنیا کی کل ضرورت کا تقریباً 20 فیصد تیل اسی راستے سے گزرتا ہے، جس کے رک جانے سے عالمی منڈی میں تیل کی قلت کا شدید خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ تصادم نے انوسٹرز کو تذبذب کا شکار کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں قیمتیں گزشتہ کئی سالوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے تک بند رہی تو تیل کی قیمتیں 120 ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں، جس کے اثرات براہِ راست عالمی معیشت اور مہنگائی کی صورت میں ظاہر ہوں گے۔












پیر 16 مارچ 2026 