سفارتی سطح پر تنہائی کا شکار طالبان حکومت کو ایک اور بڑا دھچکا لگا ہے، جہاں جرمنی نے برلن میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ افغان سفارتی نمائندے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
افغان میڈیا رپورٹس، جن میں کابل ناؤ اور افغانستان انٹرنیشنل شامل ہیں، کے مطابق جرمن حکام واضح کر چکے ہیں کہ وہ طالبان حکومت کو افغانستان کی باقاعدہ اور قانونی حکومت کے طور پر تسلیم نہیں کرتے۔
جرمن وزارت خارجہ کے مطابق افغان سفارتخانے میں کسی نئی تقرری یا قانونی تبدیلی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ برلن بدستور سابق افغان حکومت کی جانب سے تعینات ناظم الامور کے ساتھ ہی سرکاری روابط برقرار رکھے ہوئے ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ سفارتی اصولوں کے تحت کسی بھی نمائندے کو تسلیم کرنے کے لیے میزبان ملک کی منظوری ضروری ہوتی ہے، جو اس معاملے میں نہیں دی گئی۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام صرف ایک سفارتی فیصلہ نہیں بلکہ طالبان حکومت پر عالمی عدم اعتماد کی بڑھتی ہوئی فضا کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے بقول افغانستان کو اس وقت عالمی تنہائی اور معاشی مشکلات کا سامنا ہے، اور موجودہ پالیسیوں کے باعث یہ بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔












جمعرات 26 مارچ 2026 