اسلام آباد (طارق محمود سمیر) گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبے میں ترقی اور خود کفالت کی جانب اہم اقدامات جاری ہیں۔ اس سلسلے میں فون گرو پاکستان نے جدید زرعی ٹیکنالوجی اور اسمارٹ فارمنگ کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
فون گرو نے جدید مشینری، جدید آبپاشی نظام، سولرائزیشن اور ماحول دوست طریقوں کے ذریعے پانی کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا ہے۔ مزید برآں، ڈرونز، سینسرز اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے استعمال سے پریسیژن فارمنگ کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس سے کسانوں کو زیادہ مؤثر اور جدید طریقے سے زرعی پیداوار حاصل ہو رہی ہے۔
لائیو اسٹاک کے شعبے میں فون گرو نے اعلیٰ جینیاتی معیار، IVF ٹیکنالوجی اور ایمبریو ٹرانسفر کے ذریعے مویشیوں کی پیداوار میں اضافہ کیا ہے۔ منیجر لائیو اسٹاک ڈاکٹر شمریز کے مطابق، مارچ 2024 میں برازیل سے اعلیٰ نسل کے مویشی درآمد کیے گئے، اور اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد سیمن ڈوزز تیار ہو چکی ہیں، جن کی بڑی تعداد کسانوں تک پہنچائی جا چکی ہے۔
فون گرو کی لیب میں اب تک 3,000 سے زائد ایمبریوز تیار کیے گئے اور 800 سے زائد مختلف فارمز پر منتقل کیے جا چکے ہیں۔ ڈاکٹر شمریز نے بتایا کہ ان اقدامات کے باعث عام کسان بھی اعلیٰ جینیاتی مویشیوں کے ذریعے دودھ اور گوشت کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ حاصل کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر شمریز کا کہنا ہے کہ گرین پاکستان انیشیٹو کے مؤثر اقدامات سے پاکستان زرعی جدت، پائیداری اور خود کفالت کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔
گرین پاکستان انیشیٹو: زرعی اور لائیو اسٹاک میں خود کفالت کی طرف اہم پیش رفت
اتوار 29 مارچ 2026 مزید خبریں
تازہ ترین
آسکر ایوارڈز 2029 میں بڑی تبدیلیاں متوقع
45 منٹ قبل












