نیشنل ویٹ اوور سائٹ کمیٹی کا اجلاس: خریداری کی حکمتِ عملی اور غذائی تحفظ کے اقدامات کا جائزہ

Calender Icon بدھ 1 اپریل 2026

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، رانا تنویر حسین کی زیر صدارت نیشنل ویٹ اوور سائٹ کمیٹی کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں گندم کی خریداری کے انتظامات، بین الصوبائی رابطہ کاری، اور بدلتے ہوئے عالمی حالات کے تناظر میں قومی غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حالیہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال نے عالمی خوراکی سپلائی چینز کی کمزوری کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی تجارتی راستوں میں ممکنہ رکاوٹیں، مال برداری کے بڑھتے ہوئے غیر یقینی حالات، اور عالمی اجناس کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ اس امر کا تقاضا کرتے ہیں کہ پاکستان اپنی داخلی زرعی نظام کو مضبوط بنائے، اسٹریٹجک ذخائر کے انتظام کو بہتر کرے، اور ضروری اجناس کی بروقت خریداری کو یقینی بنائے۔

اجلاس میں مختلف صوبوں میں جاری گندم کی خریداری کے عمل کا جائزہ لیا گیا، جس میں خریداری کے نظام کی بروقت تیاری، فصل کی کٹائی کے دوران منڈی کے استحکام، اور کسانوں کو نچلی سطح پر سہولت فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ وفاقی وزیر نے زور دیا کہ خریداری کے نظام کو شفاف، مؤثر اور ہر لحاظ سے قابلِ رسائی بنایا جائے تاکہ تمام گندم پیدا کرنے والے علاقوں کے کسان اس سے بلا تاخیر اور بلا تفریق مستفید ہو سکیں۔

اجلاس میں کسانوں کے مفادات کے تحفظ کو بنیادی اہمیت حاصل رہی۔ وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ خریداری کے نظام میں تاخیر سے منڈی میں بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے اور درمیانی عناصر قیمتوں کے فرق سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جس کا براہِ راست نقصان کسانوں کو ہوگا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ خریداری کے تمام نظام فصل کی کٹائی کے اہم دورانیے میں مکمل طور پر فعال رہیں۔

کمیٹی نے گندم کی پیداوار میں طویل المدتی اضافے کے اقدامات پر بھی غور کیا۔ وفاقی وزیر نے بہتر اور تصدیق شدہ بیج کے استعمال، متوازن کھادوں کے استعمال کے فروغ، اور جدید زرعی مشینری جیسے لیزر لیولنگ، جدید طریقۂ کاشت اور بہتر کٹائی کے نظام کے فروغ پر زور دیا۔ ان اقدامات کو فی ایکڑ پیداوار میں اضافے اور قومی غذائی تحفظ کے استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا۔

وفاقی وزیر نے زرعی توسیعی خدمات، کسانوں میں آگاہی مہمات، اور زرعی وسائل کی بروقت دستیابی کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان مربوط تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پالیسیوں کو عملی نتائج میں بدلنے کے لیے ادارہ جاتی ہم آہنگی نہایت ضروری ہے، خصوصاً موسمیاتی تبدیلیوں اور عالمی سپلائی چین کے دباؤ کے تناظر میں۔

صوبائی نمائندوں نے اجلاس کو اپنے اپنے صوبوں میں جاری خریداری کے انتظامات اور کسانوں کی معاونت کے اقدامات سے آگاہ کیا۔ وفاقی وزیر نے تمام صوبوں کی مشترکہ کاوشوں کو سراہا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاقی حکومت گندم کی خریداری کے نظام کو مستحکم بنانے کے لیے ہر ممکن تکنیکی اور پالیسی معاونت فراہم کرتی رہے گی۔

اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر نے کہا کہ گندم پاکستان کی غذائی تحفظ کی ایک اسٹریٹجک فصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر پاکستان کو خود کفالت کی پالیسی اپنانی ہوگی، اپنی داخلی پیداوار کے نظام کو مضبوط بنانا ہوگا، اور ضروری اجناس کے مؤثر انتظام کو یقینی بنانا ہوگا۔

اجلاس اس مشترکہ عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ خریداری کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے گا، بین الصوبائی رابطہ کاری کو بہتر کیا جائے گا، اور زرعی شعبے میں پیداوار بڑھانے کے لیے اصلاحاتی اقدامات کو تیز کیا جائے گا تاکہ قومی غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔