کولمبو(نیوز ڈیسک)عالمی سطح پر شائع ہونے والی حالیہ رپورٹس میں افغانستان کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہاں مختلف شدت پسند گروہوں کی موجودگی خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔
سری لنکن جریدے سری لنکا گارڈین کے مطابق افغانستان بعض دہشتگرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کی صورت اختیار کر چکا ہے، جہاں سے وہ سرحد پار کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں اقوام متحدہ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے سرگرم بعض گروہوں کی موجودگی اور مبینہ معاونت کے باعث خطے میں سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ مزید یہ کہ بعض شدت پسند تنظیموں کے روابط اور سرگرمیوں کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
جریدے کے مطابق مختلف عالمی رپورٹس میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ شدت پسند عناصر کی سرگرمیاں کم ہونے کے بجائے بعض صورتوں میں مزید پیچیدہ ہو گئی ہیں، جس کے باعث علاقائی استحکام متاثر ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ ہمسایہ ممالک کے لیے بھی اثرات مرتب کر سکتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جائے اور مؤثر حکمت عملی کے ذریعے پائیدار امن کی کوششیں کی جائیں۔
تجزیہ کاروں نے زور دیا ہے کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی تعاون، شفاف پالیسیوں اور ذمہ دارانہ اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا بروقت تدارک کیا جا سکے۔












پیر 6 اپریل 2026 