بی جے پی حکومت مذموم سیاسی عزائم کیلئے پاکستان کیخلاف گمران کن بیانات اور مضحکہ خیز الزامات میں مصروف

Calender Icon منگل 7 اپریل 2026

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)بھارت میں عام انتخابات کے قریب آتے ہی حکمران جماعت بی جے پی کی جانب سے پاکستان کے خلاف گمراہ کن بیانات اور بے بنیاد الزامات کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے، جسے ماہرین انتخابی سیاست کا پرانا حربہ قرار دے رہے ہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق آسام کے وزیراعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے ایک بار پھر پاکستان پر مضحکہ خیز الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی اہلیہ سے متعلق پاسپورٹ تنازع میں بھی پاکستان کا کردار ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ پاکستان بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کی پشت پناہی کر رہا ہے اور آسام کے انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے گا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بی جے پی قیادت، خاص طور پر وزیر اعظم نریندر مودی، انتخابات سے قبل عوامی جذبات کو بھڑکانے کے لیے اپوزیشن کو پاکستان سے جوڑنے اور مذہبی تقسیم کو ہوا دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ حکمت عملی نہ صرف اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے بلکہ ووٹرز کو جذباتی بنیادوں پر متحرک کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔

ماہرین کے مطابق بھارت میں انتخابی مہم کے دوران پاکستان پر الزامات، فالس فلیگ آپریشنز اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ بی جے پی کی سیاست کا مستقل حصہ بن چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غیر مقبولیت کے دباؤ کا شکار بی جے پی مختلف ریاستوں میں انتخابات سے قبل پاکستان مخالف جذبات کو ابھار کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے بیانات نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں بلکہ اندرونی طور پر بھی سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرتے ہیں، جس کے نتائج طویل المدتی عدم استحکام کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔