نیویارک / اسلام آباد(نیوزڈیسک)اقوامِ متحدہ کے حالیہ اجلاسوں میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے عاصم افتخار احمد نے دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ جنوبی ایشیا میں امن، انصاف اور انسانی حقوق ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مسائل ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے خاص طور پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا اور کہا کہ جب تک کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حق، یعنی حقِ خودارادیت نہیں ملتا، خطے میں پائیدار امن کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔ انہوں نے وادی میں جاری صورتحال کو انسانی حقوق کے تناظر میں دیکھا اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس معاملے میں عملی کردار ادا کرے۔
اسلاموفوبیا کے موضوع پر بات کرتے ہوئے ان کا لہجہ مزید سنجیدہ ہو گیا۔ انہوں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز رجحانات بڑھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق مذہبی آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ کسی کے عقائد کو مجروح کیا جائے، بلکہ اس کے لیے ایک متوازن اور ذمہ دار عالمی رویہ اپنانا ہوگا۔
علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو بھی خطرناک قرار دیا اور واضح کیا کہ پاکستان کسی بھی نئی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ان کے مطابق مسائل کا واحد حل مذاکرات اور سفارتکاری میں ہے، نہ کہ تصادم میں۔
افغانستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہاں استحکام صرف افغان عوام ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ضروری ہے۔ پاکستان اپنی ذمہ داری ادا کر رہا ہے، تاہم عالمی برادری کو بھی چاہیے کہ وہ انسانی بنیادوں پر افغانستان کی مدد جاری رکھے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ممالک، خاص طور پر وہ جو قدرتی آفات سے شدید متاثر ہوتے ہیں، انہیں مالی اور معاشی سہارا دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ صرف مدد نہیں بلکہ عالمی انصاف کا تقاضا ہے۔
یہ خطاب اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اب عالمی سفارتکاری میں زیادہ متحرک اور واضح حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ عاصم افتخار احمد کی گفتگو میں ایک ایسا بیانیہ سامنے آیا جس میں اصولی مؤقف کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کو عملی اقدامات کی طرف راغب کرنے کی کوشش بھی شامل تھی۔












منگل 7 اپریل 2026 