اسلام آباد (نیوز ڈیسک) کلیکٹو سکیورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن (سی ایس ٹی او) نے افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے خطے کے لیے ایک بڑا سیکیورٹی خطرہ قرار دے دیا ہے۔
تنظیم کے مطابق افغانستان کی سرزمین دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں میں تبدیل ہو رہی ہے، جہاں سے خطے کو درپیش سیکیورٹی خطرات کی سنگینی بدستور برقرار ہے۔ سی ایس ٹی او کا کہنا ہے کہ شدت پسندی، غیرقانونی سرگرمیوں اور کمزور طرزِ حکمرانی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
افغان میڈیا خامہ پریس کے مطابق سی ایس ٹی او نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں سرگرم شدت پسند اور عسکریت پسند گروہ غیر محفوظ سرحدوں اور کمزور حکومتی کنٹرول کا فائدہ اٹھا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں پڑوسی ممالک کو سرحد پار دہشتگردی، اسمگلنگ اور مسلح گروہوں کی نقل و حرکت جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔
سی ایس ٹی او نے افغانستان میں قائم طالبان حکومت کو تاجکستان اور کرغزستان سمیت اپنے رکن ممالک کے لیے سیکیورٹی خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں عدم استحکام کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق طالبان حکومت کی پالیسیوں، انتہاپسندی اور ریاستی جبر نے افغانستان کو انسانی، معاشی اور سیکیورٹی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشتگردی اور منشیات کی اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی مالی معاونت کے ذریعے خطے میں عدم استحکام کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس کے اثرات سرحد پار ممالک تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔












جمعہ 10 اپریل 2026 