مائیکل جیکسن کی بائیوپک میں سب سے بڑے تنازع کو کیوں شامل نہیں کیا گیا؟

Calender Icon اتوار 26 اپریل 2026

دنیا کے معروف پاپ گلوکار مائیکل جیکسن(Michael Jackson) کی نئی بایوپک مائیکل بحث کا موضوع بن گئی ہے۔

اس فلم میں مرکزی کردار جیفر جیکسن نے ادا کیا ہے، تاہم فلم کی کہانی 1988ء پر آ کر ختم ہو جاتی ہے، یعنی وہ دور جب مائیکل جیکسن کی زندگی میں بڑے تنازعات سامنے نہیں آئے تھے۔

ہدایت کار کے مطابق فلم کا ابتدائی ورژن 1993ء کے الزامات تک جاتا تھا، جس میں پولیس کی جانب سے نیور لینڈ رینچ پر چھاپہ بھی شامل تھا۔

 انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ایسے مناظر بھی فلمائے تھے جن میں مائیکل جیکسن کو سخت حالات کا سامنا کرتے دکھایا گیا۔

1993ء میں مائیکل جیکسن پر 13 سالہ لڑکے کے ساتھ مبینہ زیادتی کے الزامات لگے تھے، جس کے بعد ایک مقدمہ تقریباً 25 ملین ڈالر میں طے پایا، اگرچہ جیکسن نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی اور بعد میں 2005ء کے ایک مقدمے میں بری بھی ہو گئے۔

مزیدپڑھیں:شردھا کپور اور نورا فتحی ڈرگ کیس سے بری

رپورٹس کے مطابق اس تصفیے میں ایسی شرائط شامل تھیں جو چاندلر فیملی کو فلموں میں دکھانے سے روکتی ہیں اور یہی قانونی پیچیدگیاں فلم کی کہانی میں بڑی تبدیلی کی وجہ بنیں، ابتدائی اسکرپٹ میں اس پہلو کو شامل کیا گیا تھا مگر بعد میں اسے ہٹا دیا گیا۔

اس کے بعد فلم کے آخری حصے کو مکمل طور پر دوبارہ بنایا گیا اور کہانی کو تنازعات سے پہلے کے دور تک محدود کر دیا گیا۔

یوں یہ فلم مائیکل جیکسن کے عروج کی چمکدار کہانی پیش کرتی ہے، لیکن ان کی زندگی کے سب سے متنازع پہلوؤں کو نظر انداز کر دیتی ہے، جس پر سوشل میڈیا اور شائقین میں بحث جاری ہے کہ یہ تخلیقی فیصلہ تھا یا قانونی مجبوری۔