نیب کی بڑی کامیابی، 2026 کی پہلی سہ ماہی میں 2.962 ٹریلین روپے ریکوری

Calender Icon بدھ 29 اپریل 2026

اسلام آباد، قومی احتساب بیورو نے سال 2026 کے پہلے تین ماہ میں غیر معمولی کارکردگی(nab efficiency)دکھاتے ہوئے مجموعی طور پر’’2.962 ٹریلین روپے‘‘ کی ریکوری کی ہے، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 33 گنا زیادہ ہے۔

نیب کے مطابق لاہور اور ملتان دفاتر نے مشترکہ طور پر 23.33 ارب روپے مالیت کی 4,034 ایکڑ سرکاری زمین واگزار کرائی، جبکہ کراچی اور سکھر میں 2,891 ارب روپے سے زائد مالیت کی 54 ہزار ایکڑ سے زیادہ زمین واپس حاصل کی گئی۔

اسی دوران بلوچستان میں بھی 36.54 ارب روپے مالیت کی 51 ہزار ایکڑ سے زائد سرکاری زمین واپس لی گئی۔ نیب نے پلی بارگین، نیلامی اور عدالتی جرمانوں کی مد میں 11 ارب روپے سے زائد کی براہ راست ریکوری بھی کی۔

ادارے کے مطابق فراڈ کیسز میں 6 ہزار سے زائد متاثرین کو تقریباً 1.78 ارب روپے واپس کیے گئے، جبکہ پنجاب اور سندھ میں مزید کھربوں روپے مالیت کی سرکاری زمینوں کی نشاندہی بھی کی جا رہی ہے۔

نیب کا کہنا ہے کہ شفاف احتساب، سرکاری اثاثوں کے تحفظ اور قومی خزانے کی بحالی کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔

نیب لاہور اور ملتان نے اپنی مشترکہ کاوشوں سے 23.33 ارب روپے مالیت کی 4,034 ایکڑ سرکاری زمین واگزار کرائی، جبکہ نیب کراچی اور سکھر نے 2,891.38 ارب روپے مالیت کی 54,387 ایکڑ سرکاری زمین واگزار کروائی ۔

اسی عرصے میں نیب بلوچستان نے بھی 36.54 ارب روپے مالیت کی 51,577 ایکڑ سرکاری زمین سرکاری تحویل میں واپس کی۔ ان سرکاری زمینوں کے علاوہ نیب نے پلی بارگین، نیلامی اور عدالتی جرمانوں کی مد میں 11.085 ارب روپے کی براہِ راست ریکوری بھی کی۔

مزید برآں، عوام کو دھوکہ دہی کے کیسز میں 6,475 متاثرین کو 1.78 ارب روپے کی لوٹی ہوئی رقم واپس کی گئی۔ یہ شاندار کارکردگی نیب کی اعلیٰ شعبوں پر توجہ، بہتر کیس مینجمنٹ اور محکموں کے درمیان مضبوط کوآرڈینیشن کی عکاسی کرتی ہے۔

اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے نیب نے صوبائی حکومتوں کے تعاون سے مزید بڑی ریکوریز کا سراغ لگایا ہے۔ پنجاب میں 4.37 ٹریلین روپے مالیت کی تقریباً 9 لاکھ ایکڑ سرکاری زمین جبکہ سندھ میں 10.96 ٹریلین روپے مالیت کی 452,968 ایکڑ زمین کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔

اس عمل کو تیز بنانے کے لیے پنجاب اور سندھ کی حکومتوں نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کی نگرانی میں خصوصی ٹاسک فورسز بنا دی گئی ہیں تاکہ سرکاری زمینوں کی واپسی اور ان کے قانونی تصفیے کو یقینی بنایا جا سکے۔

صوبوں کی یہ مجموعی پیش رفت اثاثوں کی واپسی کے لیے ایک ہمہ گیر رائے عامہ کو ظاہر کرتی ہے۔ ان جاری اقدامات سے شفافیت اور بہتر گورننس میں مدد ملے گی اور عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔

مزید پڑھیں:جب تک ہم آئین کو نہیں مانتے ملک نہیں چلے گا، حکام جوابدہ ہیں، شاہد خاقان عباسی

نیب غیر جانبداری اور شفافیت کے ساتھ احتساب جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ عوامی اثاثوں کی حفاظت کی جائے گی اور کرپشن کے ذریعے ہتھیا ئی گئی رقم اور سرکاری زمینیں ہر صورت قومی خزانے کو واپس لوٹائی جائیں گی۔