3 ماہ کا وعدہ، 3 سال مزید انتظار: ریڈ لائن بی آر ٹی 2028 تک مکمل ہوگا، عدالت میں انکشاف

Calender Icon جمعرات 30 اپریل 2026

کراچی میں ریڈ لائن بی آر ٹی(BRT) منصوبے کی تکمیل سے متعلق سندھ حکومت اور میئر کراچی کے تین ماہ میں مکمل کرنے کے دعوے غلط ثابت ہوگئے۔ عدالت میں انکشاف ہوا ہے کہ منصوبہ اب 2028 تک مکمل ہوگا، جس پر سندھ ہائیکورٹ نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔

سندھ ہائیکورٹ میں ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے میں تاخیر اور کنٹریکٹر کی سائٹ سیل کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جہاں عدالت نے منصوبے کی تکمیل سے متعلق پیش رفت پر سوال اٹھایا۔

دورانِ سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ منصوبہ کب مکمل ہوگا، جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ریڈ لائن بی آر ٹی 2028 تک مکمل ہوگی۔

یاد رہے کہ سندھ حکومت اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی جانب سے ماضی میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ منصوبہ تین ماہ میں مکمل کرلیا جائے گا، تاہم عدالت میں پیش کی گئی نئی ٹائم لائن نے ان دعوؤں پر سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔

منصوبے میں تاخیر پر جسٹس سلیم جیسر نے کمیشن بنانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ تاخیر کی وجوہات کا تعین ضروری ہے، جبکہ جسٹس نثار بھمبھرو نے ریمارکس دیے کہ اس منصوبے کی وجہ سے پورا شہر متاثر ہو رہا ہے۔

عدالت نے ٹرانس کراچی کے وکلا سے مکالمے میں کہا کہ متاثر تو عوام ہو رہی ہے، آپ لوگوں کو کیا فرق پڑتا ہے۔ اس موقع پر کنٹریکٹر کے وکیل صلاح الدین نے مؤقف اختیار کیا کہ کوئی ایک دستاویز پیش کی جائے جس سے ثابت ہو کہ تاخیر ان کی وجہ سے ہوئی ہے۔

مزیدپڑھیں:‘امید ہے امریکا کو ہارٹ اٹیک نہیں آئے گا’: ایران کا نیا اور خوفناک ہتھیار دنیا کے سامنے لانے کا اعلان

جسٹس نثار بھمبھرو نے واضح کیا کہ عدالت کو فریقین کے معاہدے سے کوئی غرض نہیں، عدالت کو سڑک چاہیے تاکہ شہریوں کو ریلیف مل سکے۔

عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ یونیورسٹی روڈ پر جاری کام کے باعث شاہراہِ فیصل اور شاہراہِ پاکستان پر بھی ٹریفک کا دباؤ بڑھ گیا ہے، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 4 مئی تک ملتوی کردی۔