امریکا (America) میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال پر ایک نیا سیاسی تنازع سامنے آ گیا ہے، جہاں ٹرمپ انتظامیہ پر الزام ہے کہ اس نے عارضی جنگ بندی کو جنگ کے مکمل خاتمے کے طور پر پیش کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بعض امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ایران کے ساتھ جاری لڑائی اب ختم ہو چکی ہے، کیونکہ جنگ بندی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کوئی براہِ راست جھڑپ رپورٹ نہیں ہوئی۔ اس مؤقف کی بنیاد پر یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وار پاورز ایکٹ کے تحت کانگریس کی منظوری کی قانونی مدت پوری ہو چکی ہے، اس لیے صدر کو مزید اجازت لینے کی ضرورت نہیں رہی۔
تاہم دوسری جانب یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ایران پر ممکنہ نئے حملوں کی منصوبہ بندی جاری ہے اور بعض اسٹریٹجک علاقوں جیسے بندرگاہوں اور آبنائے ہرمز کی صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔
امریکی وزیرِ جنگ Pete Hegseth نے سینیٹ آرمڈ سروسز کمیٹی میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کے قانونی تقاضوں اور 60 دن کی مدت کے باوجود صورتحال واضح نہیں کہ اسے مکمل طور پر ختم سمجھا جائے یا نہیں۔ ان کے مطابق جنگ کے خاتمے یا کانگریس سے منظوری کا فیصلہ وائٹ ہاؤس کی صوابدید پر منحصر ہے۔
دوسری جانب امریکی سینیٹ میں ایران جنگ کے حوالے سے صدر Donald Trump کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش بھی ناکام ہو گئی۔ کیلیفورنیا سے ڈیموکریٹ سینیٹر Adam Schiff کی پیش کردہ قرارداد 47 کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے مسترد کر دی گئی۔ اس قرارداد کا مقصد یہ تھا کہ جنگ کے بعد امریکی افواج کو واپس بلانے کا اختیار محدود کیا جائے۔
سیاسی ماہرین کے مطابق اس صورتحال نے نہ صرف امریکی داخلی سیاست کو تقسیم کیا ہے بلکہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے مستقبل کو بھی غیر یقینی بنا دیا ہے۔












جمعہ 1 مئی 2026 