ٹرمپ کے جنگی اختیارات پر سوالات، ایران پالیسی اب امریکی کانگریس کے فیصلے کی منتظر

Calender Icon جمعہ 1 مئی 2026

واشنگٹن (Washington) میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے تسلسل پر اہم آئینی و سیاسی بحث جاری ہے، جہاں معاملہ اب امریکی کانگریس کے فیصلے تک پہنچ گیا ہے۔

قانونی طور پر امریکی صدر Donald Trump کو جنگی کارروائیوں کے لیے 60 دن کے اندر کانگریس سے منظوری لینا لازم ہوتا ہے، اور یہ مدت آج مکمل ہو رہی ہے۔ اسی وجہ سے اب فیصلہ کانگریس کرے گی کہ امریکا ایران کے ساتھ مزید جنگ جاری رکھے گا یا نہیں۔

وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ موجودہ صورتحال میں عارضی جنگ بندی کو لامحدود مدت تک بڑھا دیا گیا ہے، اور چونکہ 7 اپریل کے بعد کوئی براہِ راست جھڑپ رپورٹ نہیں ہوئی، اس لیے ان کے مطابق جنگ عملاً ختم ہو چکی ہے اور اب نئی منظوری کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

تاہم امریکی حکام کے درمیان اس مؤقف پر اختلاف بھی موجود ہے۔ بعض سرکاری عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے بعد سے کوئی فائرنگ یا جھڑپ نہیں ہوئی، اس لیے وار پاورز ایکٹ کے تحت جنگ کو ختم تصور کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیرِ جنگ Pete Hegseth نے سینیٹ میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ فیصلہ کرنا کہ جنگ کب ختم ہوئی اور کب کانگریس کی منظوری ضروری ہے، وائٹ ہاؤس کا اختیار ہے، اور 60 دن کی قانونی مدت کی پابندی اب مؤثر نہیں رہی۔

اسی دوران امریکی سینیٹ میں ایران کے حوالے سے صدر کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش بھی ناکام ہو گئی۔ کیلیفورنیا سے ڈیموکریٹ سینیٹر Adam Schiff کی پیش کردہ قرارداد 47 کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے مسترد کر دی گئی، جس کا مقصد جنگ کے بعد امریکی افواج کی واپسی کو یقینی بنانا تھا۔

سیاسی ماہرین کے مطابق اس صورتحال نے نہ صرف واشنگٹن میں آئینی بحث کو تیز کر دیا ہے بلکہ امریکا کی ایران پالیسی کو بھی غیر یقینی بنا دیا ہے۔