خیبرپختونخوا، سرکاری گندم غائب ہونے کا انکشاف، خصوصی کمیٹی قائم، تحقیقات شروع

Calender Icon اتوار 10 مئی 2026

پشاور: خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں سرکاری گندم (government wheat stocks)کے ذخائر سے بڑی مقدار میں گندم غائب ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ جس پر محکمہ خوراک نے تحقیقات کا آغاز کر دیا۔

رپورٹس کے مطابق بنوں کے محکمہ خوراک کی جانب سے اپریل 2026 میں ارسال کردہ مراسلے میں بتایا گیا کہ نڑ حافظ آباد کے گوداموں کے حالیہ معائنے کے دوران مزید 123.171 میٹرک ٹن گندم کم پائی گئی۔ یہ اسی ذخیرہ مرکز سے کمی کی پانچویں رپورٹ ہے۔

حالیہ انکشاف کے بعد پراونشل ریزرو سینٹر بنوں میں مجموعی گندم کی کمی بڑھ کر 391.176 میٹرک ٹن تک پہنچ گئی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق گودام نمبر 8 سے 74.292 میٹرک ٹن، گودام نمبر 9 سے 25.727 میٹرک ٹن جبکہ گودام نمبر 3 سے 23.152 میٹرک ٹن گندم غائب پائی گئی۔ جو باضابطہ طور پر پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کی ملکیت تھی۔

محکمہ خوراک کے ایک سینئر افسر نے بار بار سامنے آنے والی کمی کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل بھی تقریباً 268 میٹرک ٹن گندم کی کمی رپورٹ ہو چکی تھی۔

دوسری جانب سوات کے پراونشل ریزرو سینٹر میں بھی 633.200 میٹرک ٹن گندم غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

معائنہ رپورٹ کے مطابق ٹخہ بانڈ کے گوداموں میں ریکارڈ کے برعکس ہزاروں تھیلے موجود نہیں تھے جبکہ بعض گودام مکمل خالی پائے گئے۔ کئی تھیلے طویل عرصے سے ذخیرہ ہونے کے باعث ناقابل استعمال حالت میں پہنچ چکے تھے۔

محکمہ خوراک خیبرپختونخوا کے ڈائریکٹر کے مطابق تمام اضلاع میں خصوصی آڈٹ شروع کر دیا گیا ہے۔ اور تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔

مزید پڑھیں:پاکستان میں وویمن کرکٹ کا مستقبل روشن ہے، چیئرمین پی سی بی

انہوں نے واضح کیا کہ بے ضابطگی یا بدعنوانی ثابت ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔