آسٹریلوی سائنسدانوں کا انوکھا نانو پینٹ جو اے سی کی ضرورت ختم کر دیگا

Calender Icon پیر 11 مئی 2026

عالمی درجہ حرارت میں اضافے اور دنیا بھر میں پانی کی قلت(water shortage) کا بحران سنگین ہوتا جا رہا ہے مگر اب ایک ایسا پینٹ تیار کیا گیا ہے جو ان دونوں مسائل کی روک تھام کرے گا۔

واضح رہے کہ گرم موسم میں ائیر کنڈیشنر(اے سی) کے بغیر گزارا کرنا مشکل محسوس ہوتا ہے مگر اکثرمقامات میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ یا اے سی نہ ہونے یا مالی سکت نہ ہونے کے باعث اس ٹھنڈی مشین کا استعمال ممکن نہیں ہوتا۔

یہی وجہ ہے کہ سائنسدانوں کی جانب سے ایسے متبادل ٹیکنالوجیز پر کام کیا جا رہا ہے جو اے سی کی ضرورت ختم کردے۔

آسٹریلیا سڈنی یونیورسٹی کے سائنسدانوں Chiara Neto اور منگ چاؤ نے ایسا نانو پینٹ تیار کیا ہے جسے اگر چھت پر استعمال کیا جائے تو یہ عمارت کو ٹھنڈا کرنے کے ساتھ ساتھ ہوا سے پانی کو بھی ذخیرہ کرتا ہے۔

ان دونوں نے 2022 میں ایک کمپنی ڈیو پوائنٹ اینوویشنز کی بنیاد رکھی تھی۔دنیا بھر میں عمارتوں کو کنکریٹ سے تیار کیا جاتا ہے اور چھتوں میں سورج کی توانائی زیادہ جذب ہوتی ہے جس سے عمارت کے اندر گرمی بھی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

اس کمپنی کا ہدف یہ تھا کہ ایسا پینٹ تیار کیا جائے جو شہروں میں سورج کی حرارت کو نمایاں حد تک کم کیا جائے۔

اس مقصد کے لیے انہوں نے نانو میٹریل سے ایسا سفید پینٹ تیار کیا جو سورج کی حرارت کو جذب کرکے اسے واپس آسمان میں خارج کرتا ہے جس سے چھتوں کی سطح کو اردگرد کی فضا سے زیادہ ٹھنڈا رکھنے میں مدد ملتی ہے جس کے لیے بجلی استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

عام کمرشل سفید پینٹ سورج کی روشنی کا 70 سے 80 فیصد حصہ واپس پلٹا دیتا ہے مگر ڈیو پوائنٹ کا تیار کردہ پینٹ 96 فیصد روشنی کو منعکس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس طرح یہ پینٹ حرارت کو بہت کم جذب کرتا ہے اور چھت کی سطح کو اردگرد کی فضا سے 6 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ٹھنڈا رکھتا ہے۔

اس چھت کی آزمائش سڈنی میں 2023 میں 3 ماہ کے لیے کی گئی اور دریافت ہوا کہ جس چھت پر اسے استعمال کیا گیا، اس عمارت کے اندر درجہ حرارت روایتی گہرے رنگ کی چھت کے مقابلے میں زیادہ ٹھنڈا رہا جس کے نتیجے میں اے سی کے استعمال میں 34 فیصد تک کمی آئی۔

مگر اس پینٹ کی ایک اور بہترین خوبی یہ ہے کہ عمارت کو اے سی کے بغیر ٹھنڈا کرنے کے ساتھ ساتھ یہ پانی کا ذخیرہ بھی کرتی ہے۔کمپنی کے مطابق اس پینٹ کو آپ مستقبل میں خرید کر اپنی چھت پر استعمال کرسکیں گے۔

یہ فضا میں موجود نمی کو پانی کی شکل میں ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔تجرباتی مراحل میں ہی یہ سسٹم روزانہ 74 لیٹر پانی جمع کرلیتا تھا۔یہ پانی کی روایتی سپلائی کا متبادل تو نہیں مگر اس سے پانی کی قلت پر قابو پانے میں کسی حد تک ضرورت مد ملتی ہے۔

مزید پڑھیں:بانی پی ٹی آئی کی صحت کا معاملہ، میڈیکل بورڈ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

کمپنی کی جانب سے اس پینٹ کی آزمائش کے لیے مختلف کلینیکل ٹرائلز کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جس کے بعد اسے کمرشل بنیادوں پر فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا۔