روس کا نئے ’سرمت‘ بین البراعظمی جوہری میزائل کا کامیاب تجربہ

Calender Icon منگل 12 مئی 2026

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق روسی اسٹریٹیجک میزائل فورسز کے کمانڈر سرگئی کاراکائیف نے منگل کے روز صدر ولادیمیر پیوٹن کو کامیاب تجربے سے متعلق بریفنگ دی۔

صدر پیوٹن نے کہا کہ روس رواں سال کے اختتام تک سرمت میزائل کو باقاعدہ طور پر فوجی سروس میں شامل کر لے گا۔

جوہری میزائلوں سے لیس امریکا کی اوہائیو کلاس آبدوز جبرالٹر پہنچ گئی

انہوں نے سرمت کو ’دنیا کا سب سے طاقتور‘ جوہری میزائل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہزاروں میل دور امریکا اور یورپ میں اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

روسی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے بیان میں پیوٹن نے کہا کہ اس میزائل کے وارہیڈ کی صلاحیت مغربی ممالک کے کسی بھی مساوی نظام سے چار گنا زیادہ ہے، جبکہ اس کی رینج 35 ہزار کلومیٹر سے زائد ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ سرمت میزائل ’موجودہ اور مستقبل کے تمام میزائل دفاعی نظاموں بچ نکلنے کی صلاحیت رکھتا ہے‘۔

سرگئی کاراکائیف نے کہا کہ سرمت میزائل سسٹم سے لیس لانچرز کی تعیناتی روسی فوج کی جنگی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرے گی اور اسٹریٹیجک دفاعی اہداف کے حصول میں مدد دے گی۔