آسٹریلیا (Australia)کے چند بڑے کرکٹرز کے بارے میں اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ وہ بہتر معاوضوں کے باعث اپنی مقامی بگ بیش لیگ کے بجائے جنوبی افریقہ کی ٹی ٹوئنٹی لیگ کھیلنے پر غور کر رہے ہیں۔ اس پیش رفت نے کرکٹ حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
بڑے ناموں کی ممکنہ دلچسپی
رپورٹس کے مطابق پیٹ کمنز سمیت چند سینئر آسٹریلوی کھلاڑی 2028 میں جنوبی افریقی لیگ کے لیے این او سی لینے پر سنجیدگی سے غور کر سکتے ہیں۔ کھلاڑیوں کا مؤقف ہے کہ دنیا کی بڑی فرنچائز لیگز کے مقابلے میں بگ بیش میں معاوضے نسبتاً کم ہیں۔
مزیدپڑھیں:آئی پی ایل میں مبینہ بلیک میلنگ اسکینڈل کا انکشاف، بورڈ عہدیدار کے سیکریٹری پر الزامات
دیگر لیگز کی پرکشش پیشکشیں
اطلاعات کے مطابق پیٹ کمنز، جوش ہیزل ووڈ اور مچل اسٹارک کو اس سال انگلینڈ کی ہنڈریڈ لیگ میں کھیلنے کے لیے تقریباً آٹھ لاکھ ڈالر تک کی پیشکش بھی ہوئی تھی، تاہم انہوں نے قومی ٹیم کی ذمہ داری کو ترجیح دی۔
بگ بیش کے نظام پر سوالات
رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ کرکٹ آسٹریلیا بگ بیش لیگ میں غیر ملکی کھلاڑیوں کے ڈرافٹ سسٹم کو ختم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ 2022 کے بعد سے غیر ملکی کھلاڑیوں پر بڑی رقوم خرچ کی جا چکی ہیں، جبکہ مقامی کھلاڑیوں کی آمدن پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
پیٹ کمنز کی وضاحت
دوسری جانب پیٹ کمنز نے ان تمام خبروں کو افواہ قرار دیا ہے اور اس تاثر کو مسترد کیا ہے کہ وہ کسی فوری تبدیلی پر غور کر رہے ہیں۔
کرکٹ میں مالی مقابلے کی نئی جنگ
فرنچائز لیگز کے بڑھتے ہوئے معاوضے اب عالمی کرکٹ میں ایک بڑا عنصر بن چکے ہیں، جس کے باعث کئی ممالک کی ڈومیسٹک لیگز دباؤ کا شکار دکھائی دے رہی ہیں۔












جمعہ 15 مئی 2026 