امریکی اخبار نیویارک ٹائمز(The New York Times) نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی افواج نے عراق کے مغربی صحرائی علاقے میں کم از کم دو خفیہ اڈے قائم کر رکھے تھے، جنہیں ایران کے خلاف جون 2025 کی 12 روزہ جنگ اور بعد ازاں جاری کشیدگی کے دوران عسکری کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔
رپورٹ کے مطابق ان خفیہ اڈوں میں سے ایک کا راز اس وقت کھلا جب ایک عراقی چرواہا اتفاقیہ طور پر وہاں پہنچ گیا۔ اخبار کے مطابق چرواہے نے علاقے میں فوجی اہلکاروں، ہیلی کاپٹروں اور لینڈنگ اسٹرپ کے قریب قائم خیموں کو دیکھنے کے بعد مقامی فوجی حکام کو اطلاع دی، تاہم اس کے اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ یہ راز جاننا اس کی جان لے گیا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق چرواہے کی اطلاع پر عراقی فوج نے علاقے میں ایک شناسائی ٹیم بھیجی، مگر فورس پر حملہ کر دیا گیا۔ حملے میں ایک عراقی فوجی ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے، اس کے علاوہ دو فوجی گاڑیاں بھی تباہ کر دی گئیں، جس کے بعد عراقی دستے کو پسپا ہونا پڑا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر عراق کی جوائنٹ آپریشنز کمانڈ نے صرف اتنا اعلان کیا تھا کہ “غیر ملکی فورسز” نے عراقی اہلکاروں کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ اس معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی شکایت درج کروائی گئی۔
بعد ازاں عراقی فوج کے چیف آف اسٹاف جنرل عبدالامیر یاراللہ نے امریکی فوجی حکام سے رابطہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے تصدیق کی کہ حملہ آور فورس امریکی نہیں تھی، جس کے بعد عراقی حکام کو یقین ہوگیا کہ یہ اسرائیلی فورسز تھیں۔
مزیدپڑھیں:کیوبا نے سیکڑوں ڈرونز حاصل کرلیے، امریکی اہداف کو نشانہ بناسکتا ہے: نیوز سائٹ دعویٰ
نیویارک ٹائمز نے مزید دعویٰ کیا کہ اسرائیل عراق کے مغربی صحرا میں ایک سال سے زائد عرصے سے وقفے وقفے سے دو خفیہ اڈے استعمال کرتا رہا ہے۔ علاقائی سکیورٹی حکام کے مطابق ان میں سے ایک اڈہ 2024 کے آخر میں تیار کیا گیا تھا تاکہ اسرائیلی طیاروں کے لیے ایران تک پہنچنے کا فاصلہ کم کیا جا سکے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکا کو ان اڈوں کے بارے میں جون 2025 یا اس سے بھی پہلے سے علم تھا، تاہم واشنگٹن نے بغداد کو اس حوالے سے آگاہ نہیں کیا۔ عراقی حکام کے مطابق ایران کے ساتھ جنگی کشیدگی کے دوران امریکا نے عراق کو اپنے ریڈار سسٹمز بند کرنے پر بھی مجبور کیا، جس کے باعث بغداد کو فضائی خطرات کی نگرانی کے لیے امریکی فورسز پر انحصار کرنا پڑا۔
عراقی حکومت نے تاحال اپنے ملک میں اسرائیلی اڈوں کی موجودگی کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ عراق اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات موجود نہیں جبکہ عراقی عوام کی بڑی تعداد اسرائیل کو دشمن ریاست تصور کرتی ہے۔












پیر 18 مئی 2026 