ایک سے زائد میٹرز کے ذریعے سبسڈی لینے والوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

Calender Icon پیر 18 مئی 2026

بجلی صارفین کی جانب سے ایک سے زائد سنگل فیز میٹرز (Single-phase meters)کے ذریعے سبسڈی حاصل کرنے کے معاملے پر سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور ایسے صارفین کے گرد گھیرا مزید تنگ کیا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق متعلقہ حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ پروٹیکٹڈ کیٹیگری کی سبسڈی حاصل کرنے کے لیے زائد میٹرز استعمال کرنے والوں کا مکمل ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔ اس عمل کا مقصد اصل مستحق صارفین کی درست نشاندہی اور سبسڈی کے نظام کو شفاف بنانا ہے۔

ذرائع کے مطابق اگر کسی صارف کی جانب سے غلط طریقے سے سبسڈی حاصل کرنے کا انکشاف ہوا تو اس کی سبسڈی ختم کر کے اسے نان پروٹیکٹڈ ٹیرف کے تحت بلنگ کی جائے گی، جس کے نتیجے میں بجلی کے بلوں میں 8 سے 10 ہزار روپے تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں پھر بڑھ گئیں

بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے اس سلسلے میں بلوں پر کیو آر کوڈ بھی شامل کرنا شروع کر دیا ہے، جس کے ذریعے صارفین کا ڈیٹا جمع کیا جا رہا ہے تاکہ زائد میٹرز اور سبسڈی کے غلط استعمال کی نشاندہی کی جا سکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ صرف حقیقی اور مستحق پروٹیکٹڈ صارفین کو ہی سبسڈی دی جائے گی، جبکہ مطلوبہ معلومات فراہم نہ کرنے یا غلط طریقے سے فائدہ اٹھانے والوں کی سبسڈی مستقل طور پر ختم کر دی جائے گی۔