پاکستان میں کاروباری ماحول میں بہتری کے باعث ایس ای سی پی(SECP) کے تحت نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایس ای سی پی مسرت جبین نے کہا ہے کہ ایس ای سی پی سرمایہ کاری کے عمل کو مزید آسان بنانے اور مالیاتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اہم اصلاحات کر رہی ہے۔
ایس ای سی پی کے تحت فروری تا اپریل 2026 کے دوران 10 ہزار 511 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن مکمل ہوئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 21 فیصد زیادہ ہے اور کاروباری اعتماد میں بہتری کو ظاہر کرتی ہے۔
تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ماہ میں 4 ہزار 82 کمپنیوں کی ریکارڈ رجسٹریشن مکمل کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق 22 سے زائد ممالک کے غیر ملکی سرمایہ کاروں نے پاکستان میں کمپنیاں قائم کر کے سرمایہ کاری میں اضافہ کیا ہے۔
220 غیر ملکی شیئر ہولڈنگ کمپنیوں کا ادا شدہ سرمایہ 882 ملین روپے تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کی نسبت 218 فیصد زائد ہے۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج کے سی ای او فرخ سبزواری نے کہا کہ ایس ای سی پی کی نگرانی میں لسٹنگ پائپ لائن مضبوط ہے اور آئندہ 12 ماہ میں 10 سے 12 آئی پی اوز متوقع ہیں۔
مزیدپڑھیں:طالبان رجیم کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ منصوبہ،اختلاف رائےدبانےکی نئی سازش بےنقاب
سنٹرل ڈیپازٹری سسٹم کے سی ای او بدیع الدین اکبر کے مطابق پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ ایشیا اور دنیا کی بہترین پرفارمنگ مارکیٹس میں سے ایک ہے۔
انہوں نے کہا کہ دو سے تین سال میں 2.5 ملین سرمایہ کاروں کا ہدف قابلِ حصول ہے۔
پاکستان میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ معیشت کی ڈیجیٹل تبدیلی اور پائیدار ترقی کی عکاسی کرتا ہے۔












منگل 19 مئی 2026 