سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) نے ملک میں ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے پہلا ڈیجیٹل جنرل تکافل لائسنس جاری کر دیا ہے۔
چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر سدھو نے نان بینکنگ فنانشل سیکٹر میں ڈیجیٹلائزیشن کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو جدید، آسان اور فوری مالیاتی سہولیات کی فراہمی ادارے کی اولین ترجیح ہے۔
ایس ای سی پی کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ویلتھ برج مینجمنٹ کو پاکستان کا پہلا ڈیجیٹل انویسٹمنٹ ایڈوائزری لائسنس جاری کیا گیا ہے، جبکہ پنجاب لائف انشورنس لمیٹڈ کو پہلی صوبائی سرکاری لائف انشورنس کمپنی کا لائسنس دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں؛28ویں آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں، رضا ربانی
اعلامیے میں بتایا گیا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران لائسنسنگ ڈیپارٹمنٹ نے 510 درخواستوں پر کارروائی مکمل کی، جبکہ اس عرصے میں 84 نئے لائسنس جاری کیے گئے۔ اس کے ساتھ زیر التواء درخواستوں کی تعداد بھی 1143 سے کم ہو کر 633 رہ گئی ہے۔
ایس ای سی پی نے کاروباری ماحول کو مزید آسان بنانے کے لیے غیر ملکی درخواست گزاروں کے لیے پیشگی سیکیورٹی کلیئرنس کی شرط ختم کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
ڈاکٹر کبیر سدھو کے مطابق ادارہ کمپنیوں کے لیے دستاویزی تقاضوں کو آسان اور شفاف بنانے پر کام کر رہا ہے تاکہ سرمایہ کاری اور مالیاتی سرگرمیوں کو مزید فروغ دیا جا سکے۔












پیر 18 مئی 2026 