ایران کا امریکی دھمکیوں کے جواب میں سخت موقف

Calender Icon جمعرات 21 مئی 2026

ایران نے امریکا کی ممکنہ فوجی کارروائیوں کی دھمکیوں کے بعد سخت موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے پاس جدید ہتھیار موجود ہیں جو اب تک میدان جنگ میں استعمال نہیں ہوئے۔

روسی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی عسکری ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ملک نے مقامی سطح پر جدید دفاعی اور حملہ آور ہتھیار تیار کیے ہیں جن کا ابھی تک عملی تجربہ نہیں کیا گیا۔ ایران نے واضح کیا کہ اگر امریکا دوبارہ حملہ کرے تو وہ تحمل کا مظاہرہ نہیں کرے گا اور ہر قسم کی ممکنہ کشیدگی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

ایرانی حکام نے مزید کہا کہ دفاعی ساز و سامان یا عسکری صلاحیت کے حوالے سے ملک کو کسی کمی کا سامنا نہیں اور وطن کے دفاع کے لیے مکمل صلاحیت موجود ہے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دوبارہ فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی اور کہا تھا کہ مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا سخت اقدام اٹھا سکتا ہے۔

مزیدپڑھیں:ایران کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

دوسری جانب امریکی اور مغربی حکام ایران کی عسکری صلاحیتوں اور میزائل پروگرام پر مسلسل تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں، جبکہ ایران کا موقف ہے کہ اس کا دفاعی پروگرام صرف ملکی سلامتی کے لیے ہے۔

 ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی مشرق وسطیٰ میں نئی بحرانی صورتحال پیدا کر سکتی ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز اور خلیجی خطے کی سلامتی کے حوالے سے عالمی خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔