بیوی کی رضامندی کے بغیر خلع نہیں دی جا سکتی، سپریم کورٹ

Calender Icon اتوار 24 مئی 2026

سپریم کورٹ(Supreme Court Of Pakistan) نے خلع اور گھریلو تنازعات سے متعلق اہم اور جامع فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بیوی کی واضح، باخبر اور غیر مبہم رضامندی کے بغیر خلع نہیں دی جا سکتی۔

چیف جسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جب کہ 12 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس شاہد بلال حسن نے تحریر کیا۔

جس میں کہا گیا ہے کہ اگر بیوی نے ظلم کی بنیاد پر کیس دائر کیا ہو تو اسے خلع میں تبدیل کرنا اس کے مالی حقوق کو متاثر کر سکتا ہے، لہذا عدالت بیوی کو یہ اختیار دے کہ وہ ظلم کا دعوی جاری رکھنا چاہتی ہے یا خلع قبول کرنا چاہتی ہے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر ظلم ثابت نہ ہو مگر شادی عملی طور پر ختم ہو چکی ہو تو بیوی کو انتخاب کا حق دینا ضروری ہے۔ عدالت زبردستی مردہ رشتہ بحال نہیں کرا سکتی۔

عدالت نے گھریلو تشدد کی تعریف کو وسیع قرار دیتے ہوئے کہا کہ جسمانی تشدد کے ساتھ ذہنی اذیت، تذلیل، دبا اور محرومی بھی اس میں شامل ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ذہنی ظلم میں جذباتی اذیت، نظر انداز کرنا اور شدید ذہنی تکلیف دینا بھی شامل ہے۔سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ فیملی مقدمات میں ثبوت کا معیار غالب امکان ہوگا، جب کہ فوجداری مقدمات میں معیار شک سے بالاتر ہوگا۔

مزیدپڑھیں:کوئی 28ویں آئینی ترمیم نہیں آ رہی،24سے 48 گھنٹے میں فیلڈ مارشل کے دورہ ایران سے متعلق دنیا کیلئے اچھا پیغام جائے گا، رانا ثنا اللہ

عدالتوں کو گھریلو معاملات میں ناممکن ثبوت جیسے عینی شاہد یا ایف آئی آر کا تقاضا نہیں کرنا چاہیے۔فیصلے میں فیملی کورٹس کو ہدایت کی گئی کہ وہ سول مقدمات میں فوجداری معیارِ ثبوت لاگو کرنے سے گریز کریں اور گھریلو جھگڑوں میں حقائق، رویے اور حالات کو مدِنظر رکھ کر فیصلہ کریں۔

عدالت کے مطابق اس کیس میں شادی 19 ستمبر 2016 کو ہوئی جب کہ 8 اکتوبر 2016 کو علیحدگی کا مقدمہ دائر کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ قلیل مدت میں بھی ظلم ہو سکتا ہے اور ہر کیس اپنے حقائق پر منحصر ہوگا۔

عدالت نے قرار دیا کہ بیوی ظلم ثابت کرنے میں ناکام رہی، اس لیے نچلی عدالتوں کے فیصلے برقرار رکھے جاتے ہیں، تاہم شادی ابتدا میں ہی ختم ہو چکی تھی اور بیوی مسلسل علیحدگی پر قائم رہی۔سپریم کورٹ نے خلع کا فیصلہ جزوی طور پر کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس صرف خلع کے طریقہ کار اور مالی حقوق کے تعین کے لیے دوبارہ فیملی کورٹ کو بھجوا دیا۔

فیصلے کے مطابق فیملی کورٹ بیوی کا حتمی بیان ریکارڈ کر کے اس کی مرضی معلوم کرے گی۔ اگر بیوی خلع کا انتخاب کرے تو قانونی شرائط کے مطابق فیصلہ ہوگا، جب کہ اگر وہ ظلم کے دعوے پر قائم رہے تو کیس کا فیصلہ اسی بنیاد پر کیا جائے گا۔سپریم کورٹ نے فیملی کورٹ کو ہدایت کی ہے کہ کیس 30 دن میں نمٹایا جائے۔