ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی (Ismail Baqai) نے واضح کیا ہے کہ اس وقت پاکستان کی جانب سے کوئی وفد بھیجنے کا کوئی منصوبہ زیرِ غور نہیں ہے۔
اسماعیل بقائی کے مطابق ایران اس مرحلے پر جوہری معاملے پر براہِ راست بات چیت نہیں کر رہا، بلکہ توجہ جنگ کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات پر مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایک ابتدائی فریم ورک پر پیش رفت ہوئی ہے، لیکن ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کوئی حتمی معاہدہ قریب ہے۔
مزید پڑھیں؛ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کی امید، عالمی منڈی میں تیل سستا
اسماعیل بقائی کے مطابق ممکنہ مفاہمتی یادداشت (MoU) میں آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق کوئی تفصیلی شق شامل نہیں، اور ان کا مؤقف ہے کہ اس خطے کے انتظام کا حق ساحلی ممالک کے پاس ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر کسی قسم کا ٹول وصول نہیں کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی اور امریکی کارروائیوں سے پہلے آبنائے ہرمز کھلا تھا اور معمول کے مطابق استعمال ہو رہا تھا۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ لبنان سمیت مختلف محاذوں پر جاری کشیدگی کے خاتمے کا امکان بھی کسی ممکنہ معاہدے کا حصہ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب اس سے قبل مارکو روبیو نے کہا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کے امکانات موجود ہیں اور پیش رفت جلد سامنے آ سکتی ہے، تاہم انہوں نے اس معاملے پر محتاط رہنے کا مشورہ بھی دیا تھا۔












پیر 25 مئی 2026 