ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) کی جانب سے غزہ کی تعمیر نو کے لیے قائم کیے گئے مبینہ “بورڈ آف پیس” فنڈ سے متعلق مالی وعدے تاحال پورے نہیں ہو سکے۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کے تحت غزہ کے لیے اربوں ڈالرز اکٹھے کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، جس میں امریکا کی جانب سے 10 ارب ڈالر دینے اور دیگر عالمی شراکت داروں سے بھاری فنڈنگ کی توقع ظاہر کی گئی تھی۔
تاہم رپورٹس کے مطابق کئی ماہ گزرنے کے باوجود اس فنڈ میں عملی طور پر کوئی قابلِ ذکر رقم جمع نہیں ہو سکی، جس کے باعث غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے تعطل کا شکار ہیں۔
مزید پڑھیں؛ترک صدر اردوان کی نیتن یاہو پر کڑی تنقید، ’’ظالم‘‘ قرار دے دیا
ذرائع کے مطابق فنڈ کے لیے رکن ممالک کی جانب سے مجموعی طور پر تقریباً 7 ارب ڈالر کے وعدے کیے گئے تھے، جبکہ عالمی سطح پر انتظامی ڈھانچے کی غیر واضح حیثیت کے باعث فنڈنگ کا عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔
مزید یہ کہ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ رقم کے لین دین کے طریقۂ کار اور شفافیت پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں، جبکہ منصوبے کے انتظامی اخراجات اور قانونی حیثیت پر امریکی قانون سازوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
دوسری جانب غزہ کی صورتحال کے باعث تعمیر نو کی مجموعی لاگت آئندہ برسوں میں 70 ارب ڈالر سے زائد تک پہنچنے کا اندازہ لگایا جا رہا ہے، جبکہ موجودہ صورتحال میں عملی پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے۔












بدھ 27 مئی 2026 