برطانوی ڈاکٹروں (British Doctors) نے سوشل میڈیا (Social Media) کے بچوں پر اثرات کو لے کر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے سگریٹ نوشی جتنا خطرناک قرار دے دیا ہے۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ (United Kingdom) اور آئرلینڈ (Ireland) کے 23 طبی اداروں کی نمائندہ تنظیم “اکیڈمی آف میڈیکل رائل کالجز” (Academy of Medical Royal Colleges) نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ اسکرینز اور سوشل میڈیا کا بے قابو استعمال بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی و جسمانی صحت کو سنگین نقصان پہنچا رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے ایسے مسائل پیدا کر دیے ہیں جن کا موازنہ ماضی میں سگریٹ نوشی اور سیٹ بیلٹ قوانین جیسے بڑے عوامی صحت کے چیلنجز سے کیا جا سکتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق سروے میں شامل 132 ڈاکٹروں میں سے نصف سے زیادہ نے بتایا کہ وہ ہر ہفتے ایسے مریض دیکھتے ہیں جن کے مسائل کا تعلق سوشل میڈیا یا زیادہ اسکرین ٹائم سے ہوتا ہے، جبکہ ایک تہائی ڈاکٹروں نے کہا کہ انہیں ایسے کیسز کا سامنا ہفتے میں کئی بار ہوتا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس کے اثرات میں ذہنی دباؤ، آن لائن تشدد سے پیدا ہونے والا صدمہ، اور بعض اوقات خطرناک یا نامناسب مواد کی نقل کرتے ہوئے جسمانی چوٹیں شامل ہیں۔
مزیدپڑھیں:ٹرمپ کے غزہ ری کنسٹرکشن فنڈ میں تاحال کوئی رقم جمع نہ ہو سکی
ماہرین نے حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر سخت پابندیوں پر غور کیا جائے۔ اس حوالے سے آسٹریلیا (Australia) پہلے ہی کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کے اقدامات کر چکا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ اب صرف انفرادی نہیں بلکہ ایک بڑے عوامی صحت کے بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے، جس پر فوری اور سخت پالیسی اقدامات ضروری ہیں۔












جمعرات 28 مئی 2026 