اے آئی چینی ماہرین تزویراتی اثاثہ قرار، ملک چھوڑنے پر پابندی عائد، بلومبرگ

Calender Icon جمعرات 28 مئی 2026

بیجنگ ، چین (china) نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے شعبے سے وابستہ بعض سینیئر ماہرین کیلئے بیرون ملک سفر سے قبل اجازت لینا لازمی قرار دیدیا ہے، جن میں علی بابا اور ڈیپ سیک جیسے بڑے نجی اداروں کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

بلوم برگ کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ پابندیاں اسٹارٹ اپ بانیوں، محققین اور ایگزیکٹوز پر لاگو کی جا رہی ہیں جنہیں چین کے اے آئی اہداف کے لیے اہم تصور کیا جاتا ہے۔

چینی حکام اے آئی ماہر افراد کو ان کی کمپنی یا عہدے کے بجائے ان کی ’تزویراتی اہمیت‘کی بنیاد پر فہرست میں شامل کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان ماہرین کو بیرون ملک سفر سے قبل حکومتی اجازت لینا لازمی قرار دیا جا رہا ہے۔اس اقدام کا مقصد چین کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے اے آئی شعبے میں اہم ٹیلنٹ کو برقراررکھنا بتایا جا رہا ہے۔

یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے اعلیٰ انجینئرز اب دنیا کی دوسری بڑی معیشت کے لیے ایک تزویراتی اثاثہ بن چکے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین میں زیادہ تر اعلیٰ معیار کا اے آئی ٹیلنٹ چیٹ جی پی ٹی کے بعد کے دور میں سامنے آیا ہے، جو زیادہ تر بڑی ٹیک کمپنیوں اور نجی اسٹارٹ اپس میں کام کر رہا ہے۔

مزید پرھیں:’’ سائیکو‘‘ کا مرکزی کردارپہلے شان شاہد کیلئے لکھا گیا تھا، میرا کا انکشاف

تاہم ماہرین کے مطابق اس طرح کی پابندیاں اے آئی کمپنیوں کے لیے عالمی سطح پر ٹیلنٹ کو بھرتی کرنے اور برقرار رکھنے میں مشکلات بھی پیدا کر سکتی ہیں۔