(Iranian army)نے تجارتی بحری جہازوں اور آئل ٹینکرز کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے ایرانی اجازت اور مقررہ روٹ کے بغیر آبنائے ہُرمُز سے گزرنے کی کوشش کی تو اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔
ایرانی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہُرمُز پر ایران کا کنٹرول مضبوط اور مستحکم ہے، اور تمام تجارتی جہازوں کو ایران سے اجازت لے کر طے شدہ راستوں کے مطابق ہی اس سمندری گزرگاہ کو عبور کرنا ہوگا۔ بیان کے مطابق قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے جہاز نہ صرف خود بلکہ دیگر بحری ٹریفک کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 24 بحری جہاز ایرانی بحریہ کے تعاون سے آبنائے ہُرمُز عبور کر چکے ہیں۔ ان میں تیل بردار ٹینکرز اور کنٹینر جہاز شامل تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہُرمُز کھولنے کے اعلان کے بعد بحری سرگرمیوں میں تیزی دیکھی گئی ہے، تاہم ایرانی فریق کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق مختلف ہیں اور بحری کنٹرول بدستور ایران کے پاس ہے۔
مزید پڑھیں؛ایران کا آبنائے ہرمز کے قریب امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ
ایرانی سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ بحری ناکہ بندی اور مذاکرات میں سخت شرائط کے ذریعے سفارتکاری کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا رویہ “سفارتکاری سے غداری” کے مترادف ہے۔
دوسری طرف امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ ایران کو معلوم ہے کہ معاہدے کے لیے کیا اقدامات درکار ہیں، اور اگر بات چیت کامیاب نہ ہوئی تو فوجی آپشن بھی زیر غور ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسینٹ نے کہا ہے کہ کسی بھی پابندی یا رکاوٹ کے خاتمے کا عمل فوری نہیں بلکہ مرحلہ وار ہوگا۔
ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے رکن علی رضا سلیمی نے کہا ہے کہ آبنائے ہُرمُز پر ایرانی خودمختاری کا نیا منصوبہ جلد پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ سمندری گزرگاہ ایران کے لیے انتہائی اہم اسٹریٹجک حیثیت رکھتی ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔












ہفتہ 30 مئی 2026 