انتخابی دھاندلی کے سوال پر ٹرمپ کا غصہ، لائیو ٹی وی انٹرویو اچانک ختم کرکے چلے گئے

Calender Icon پیر 8 جون 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے امریکی نشریاتی ادارے این بی سی (NBC) کے پروگرام “میٹ دی پریس” کی میزبان کرسٹن ویلکر (Kristen Welker) کے ساتھ انٹرویو کے دوران سخت برہمی کا اظہار کیا اور انتخابی دھاندلی سے متعلق سوالات پر آپے سے باہر ہو کر انٹرویو ادھورا چھوڑ دیا۔

یہ انٹرویو امریکی ریاست وسکانسن کے ایک فارم پر ریکارڈ کیا گیا تھا، جہاں پس منظر میں ٹریکٹر اور گھاس کے گٹھے موجود تھے۔ دورانِ گفتگو شدید بارش، آندھی اور بجلی کی گرج کے باعث کئی بار انٹرویو متاثر ہوا اور آواز کے مسائل بھی پیش آئے۔

انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگی حکمتِ عملی اور دیگر امور پر کیے گئے سوالات کے جواب دیے، تاہم ماحول اس وقت کشیدہ ہو گیا جب انتخابی دھاندلی اور سیاسی معاملات پر گفتگو شروع ہوئی۔ ٹرمپ نے میزبان پر الزام لگاتے ہوئے نشریاتی ادارے کو جانبدار قرار دیا اور کہا کہ میڈیا غلط معلومات پھیلاتا ہے۔

مزیدپڑھیں:آئی سی سی کے بھارتی چیئرمین جے شاہ اور پاکستانی کپتان فاطمہ ثنا کا مصافحہ توجہ کا مرکز بن گیا

میزبان کرسٹن ویلکر نے ان کے مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دعوؤں کے حق میں کوئی ثبوت موجود نہیں۔ اس پر بحث مزید بڑھ گئی اور ٹرمپ نے سابق صدر جو بائیڈن (Joe Biden) کے دور میں سیاسی انتقامی کارروائیوں کے متاثرین کے لیے مجوزہ معاوضے کے فنڈ پر بھی سخت مؤقف اپنایا۔

گفتگو کے دوران ٹرمپ نے بار بار انتخابی نتائج اور میڈیا کے خلاف الزامات دہرائے اور آخرکار انٹرویو کو ختم کرتے ہوئے اٹھ کر چلے گئے۔