سفید اور براؤن انڈوں میں کیا فرق ہے؟ ماہرین نے حقیقت بتا دی

Calender Icon جمعرات 11 جون 2026

برطانیہ کی معروف سپر مارکیٹ چین سینسبریز (Sainsbury’s) نے اپنے کاربن اخراج میں کمی لانے کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے براؤن انڈوں کی فروخت بند کرنے اور صرف سفید انڈے فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس فیصلے کے بعد عوام میں یہ سوال شدت سے زیر بحث آ گیا ہے کہ آیا سفید اور براؤن انڈوں کے درمیان غذائیت یا معیار کے حوالے سے کوئی فرق موجود ہے یا نہیں۔

سینسبریز کی تحقیق کے مطابق سفید انڈوں کا کاربن فٹ پرنٹ براؤن انڈوں کے مقابلے میں تقریباً 12.7 فیصد کم ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق سفید انڈے دینے والی مرغیوں کو اتنی ہی تعداد میں انڈے پیدا کرنے کے لیے نسبتاً کم خوراک درکار ہوتی ہے، جس کے باعث ان کی پرورش میں کم وسائل استعمال ہوتے ہیں اور ماحول پر بوجھ بھی کم پڑتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں ہر سال تقریباً 14.5 ارب انڈے استعمال کیے جاتے ہیں، جن کی پیداوار سے اندازاً 43 لاکھ 50 ہزار ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پوری انڈہ انڈسٹری سینسبریز کے دعوے کے مطابق 12.7 فیصد کاربن اخراج کم کرنے میں کامیاب ہو جائے تو سالانہ 5 لاکھ 50 ہزار ٹن سے زائد کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی آ سکتی ہے، جو تقریباً 3 لاکھ گاڑیوں کو سڑکوں سے ہٹانے کے برابر ہے۔

مزیدپڑھیں:پاسداران انقلاب کی امریکی افواج سے جھڑپیں، آبنائے ہرمز میں 2 جہاز نشانہ بن گئے

تاہم غذائیت اور معیار کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ سفید اور براؤن انڈوں میں کوئی نمایاں فرق موجود نہیں۔ برطانوی ادارے “برٹش لائن ایگز” کے مطابق انڈے کے چھلکے کا رنگ صرف مرغی کی نسل پر منحصر ہوتا ہے۔ عام طور پر سفید پروں والی مرغیاں سفید انڈے دیتی ہیں جبکہ بھوری مرغیاں براؤن انڈے دیتی ہیں۔

ماہرین نے اس تاثر کو بھی غلط قرار دیا ہے کہ زیادہ گہرے رنگ کی زردی یا براؤن انڈہ لازمی طور پر زیادہ صحت بخش ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پر معروف ہیلتھ انفلوئنسر سنا وین کیمپن کے مطابق انڈے کی زردی کا رنگ زیادہ تر مرغیوں کی خوراک پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر مرغیوں کو میری گولڈ، پاپریکا، مکئی، گاجر یا دیگر کیروٹینائیڈز سے بھرپور خوراک دی جائے تو زردی کا رنگ زیادہ گہرا اور نارنجی ہو جاتا ہے۔

2024 میں شائع ہونے والی ایک طبی تحقیق نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ پاپریکا سمیت بعض غذائی اجزا انڈے کی زردی کے رنگ کو متاثر کرتے ہیں، تاہم اس کا براہ راست تعلق انڈے کے معیار یا غذائیت سے نہیں ہوتا۔

ماہرین کے مطابق انڈے کی اصل کوالٹی جانچنے کے لیے اس کے چھلکے پر درج کوڈ کو دیکھنا زیادہ اہم ہے۔ کوڈ “0” نامیاتی (Organic)، “1” فری رینج، “2” بارن اور “3” پنجرے میں پرورش پانے والی مرغیوں کے انڈوں کی نشاندہی کرتا ہے، اگرچہ برطانیہ کی بڑی سپر مارکیٹیں اب پنجرے والی مرغیوں کے انڈے فروخت نہیں کرتیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نہ انڈے کے چھلکے کا رنگ اور نہ ہی زردی کا رنگ اس بات کا ثبوت ہے کہ مرغی کتنی صحت مند تھی یا انڈہ زیادہ غذائیت رکھتا ہے۔ البتہ سفید انڈوں کی پیداوار نسبتاً کم لاگت اور کم ماحولیاتی اثرات کی وجہ سے بڑی سپر مارکیٹوں کے لیے زیادہ موزوں سمجھی جا رہی ہے۔